ہفتہ‬‮ ، 21 مارچ‬‮ 2026 

لندن میں برقع پہننے والی خواتین کیلئے مشکلات

datetime 7  ستمبر‬‮  2015 |

لندن (نیوز ڈیسک)لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق لندن میں مسلمانوں کے خلاف پرتشدد جرائم میں گذشتہ ایک سال میں 70 فی صد اضافہ ہوا ہے۔لندن پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے گذشتہ 12 مہینوں میں ’اسلامو فوبیا‘ کی 816 وارداتیں ہوئی ہیں جبکہ اس سے قبل اسی مدت میں 478 وارداتیں ہوئی تھیں۔مسلمانوں کے خلاف پرتشدد حملوں پر نظر رکھنے والی تنظیم ’ٹیل ماما‘ کے مطابق خواتین اس قسم کے تشدد کا زیادہ نشانہ بنی ہیں۔تنظیم نے ’اِن ساوئڈ آو¿ٹ لندن‘ کو بتایا کہ نقاب یا برقع پہننے والی خواتین کے خلاف زیادہ شدید واقعات پیش آئے ہیں۔لندن پولیس کے مطابق یہ وہ جرائم ہیں جو کسی کے مسلمان ہونے یا اسے مسلمان سمجھے جانے کی وجہ سے کیے جاتے ہیں۔ ان وارداتوں میں سائبر ب±لیئنگ (انٹرنیٹ دھمکی) سے لے کر جارحانہ حملے شامل ہیں۔’نقاب پوش یا برقع اوڑھنے والی خواتین کے خلاف زیادہ شدید واقعات پیش آئے ہیں‘اس قسم کے جرائم میں سب سے زیادہ اضافے والے علاقوں میں جنوب مغربی لندن کا میرٹن علاقہ شامل ہے جہاں جولائی سنہ 2014 میں آٹھ واقعات درج کیے گئے تھے جبکہ اس کے بعد وہاں 29 وارداتیں درج کی گئیں۔ یہ اضافہ 263 فی صد ہے۔جبکہ سکاٹ لینڈ کے اعداد و شمار کے مطابق ویسٹ منسٹر میں سب سے زیادہ اسلام مخالف 54 واقعات پیش آئے ہیں۔ٹیل ماما نے بتایا کہ خواتین اس قسم کے جرائم کا تقریباً 60 فی صد شکار ہوتی ہیں۔ٹیل ماما کی ڈائرکٹر فیاض مغل کہتی ہیں: ’ہم نے محسوس کیا کہ گلی محلے کی سطح پر جو مسلم خاتون حجاب یا دوپٹے میں نظر آتی ہے اس کو زیادہ نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘اس ادارے کا کہنا ہے کہ جو خواتین اس قسم کے جرائم کا شکار ہوئی ہیں وہ پولیس سے بھی رابطہ کرنے سے گریز کرتی ہیں کیونکہ انھیں یہ ڈر ہوتا ہے کہ اس سے حالات مزید خراب ہو جاﺅں گے۔برطانیہ کی تقریباً ساڑھے چھ کروڑ کی آبادی میں سے تقریباً 27 لاکھ مسلمان ہیں، جن میں سے 37 فیصد کے لگ بھگ لندن میں رہتے ہیںمنافرت کے متعلق جرائم کی سربراہ میک کرشٹی نے کہا: ’مسلم مردوں کے مقابلے میں مسلم خواتین کو زیادہ نشانہ بنائے جانے کی کئی وجوہات ہیں۔ان کے لباس واضح طور پر ان کے مسلم ہونے کی دلیل ہوتے ہیں اور وہ عام طور پر بچوں کے ساتھ ہوتی ہیں اور حملہ کرنے والوں کی یہ بزدلانہ سوچ ہوتی ہے کہ بچوں کے ہمراہ خواتین کو نشانہ بنانا مردوں کے مقابلے آسان ہے۔‘تبدیلیِ مذہب کے بعد مسلمان ہونے والی دو بچوں کی ماں جونی کلارک کہتی ہیں کہ اس کی وجہ سے انھیں اپنا گھر تک تبدیل کرنا پڑا ہے۔انھوں نے بتایا: ’مجھے ہر روز گالیاں سننی پڑتی ہیں۔ ایسے حملوں کا میرے بچوں پر اثر پڑ رہا تھا اور مجھے ان کی حفاظت کی فکر تھی۔ اس لیے میرے پاس گھر تبدیل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔‘برطانیہ کی تقریبا ساڑھے چھ کروڑ کی آبادی میں سے تقریباً 27 لاکھ مسلمان ہیں، جن میں سے 37 فیصد کے لگ بھگ لندن میں رہتے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…