پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

یورپی یونین نے انسا نی سمگلر و ں سے نمٹنے کے لیے بحری فوج تشکیل دینے کی منظوری دے دی

datetime 19  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)یورپی یونین کے رکن ممالک کے وزرا نے لیبیا سے انسانوں کی یورپ سمگلنگ کرنے والوں سے نمٹنے کے لیے بحری فوج تشکیل دینے کی منظوری دے دی ہے۔تنظیم کے امورِ خارجہ کی ذمہ دار رہنما فیدریکا مغیرینی کا کہنا ہے کہ یہ فوج ایک اطالوی ایڈمرل کی زیرِ قیادت آئندہ ماہ سے اپنی سرگرمیاں شروع کر دے گی اور اس کا صدر دفتر روم میں ہوگا۔انھوں نے صحافیوں کو یہ بات بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں یورپی یونین سے تعلق رکھنے والے دفاع اور خارجہ امور کے وزرا کی ملاقات کے بعد بتائی۔یورپی ممالک کو افریقہ اور مشرق وسطیٰ سے بحیرہ روم کے راستے یورپ میں غیرقانونی طور پر داخل ہونے والے تارکینِ وطن کی تعداد میں تیزی سے اضافے کا مسئلہ درپیش ہے۔اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق رواں سال 60 ہزار کے قریب افراد نے یہ خطرناک راستہ اختیار کیا ہے اور اب تک پانچ ماہ میں اس کوشش کے دوران بحیرہ روم میں 1800 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔جنگوں یا غربت کے باعث اپنا ملک ترک کرنے والے بیشتر افراد کا تعلق شام، اریٹریا، نائجیریا اور صومالیہ سے ہے۔فیدریکا مغیرینی کے مطابق یورپی بحری فورس کا آپریشن تین مراحل پر مشتمل ہوگا۔ابتدائی طور پر یہ فوج انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہوں کی سرگرمیوں کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات اکٹھا کرے گی جس کے بعد یہ ان سمگلروں کی کشتیوں کی نشاندہی اور ان کی تلاشی کی ذمہ داریاں نبھائے گی اور تیسرا مرحلہ ان کشتیوں کی تباہی کے لیے کارروائی ہو گی۔یورپی حکام کے مطابق اس کا مقصد اس بزنس ماڈل کو منتشر کرنا ہے جس کی وجہ سے بحیرہ روم کے راستے انسانی سمگلنگ ایک منافع بخش کاروبار بن رہا ہے۔ یورپی وزیر کا کہنا تھا کہ ’یہ بات صرف کشتیوں کی تباہی کی نہیں بلکہ ان انسانی سمگلروں کے کاروبار اور نیٹ ورک کی تباہی کی ہے۔‘برطانیہ اس سلسلے میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کرنے کی تیاریوں میں ہے جس کے تحت یورپی یونین کو انسانی سمگلروں کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کا قانونی جواز مل جائے گا۔فیدریکا مغیرینی نے یہ بھی کہا اس مہم کی کامیابی کے لیے لیبیائی حکام کا تعاون کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ ’ہم ایک شراکت کے متلاشی ہیں۔ لیبیائی حکام کو اپنی سرزمین پر بحری اور زمینی سرحدوں پر ایک ذمہ داری نبھانی ہوگی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…