پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

جنگی کارروائیوں کے لیے جاپانی آئین میں تبدیلی

datetime 15  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)جاپانی کابینہ نے سلامتی کی پالیسی کے حوالے سے ایک بل منظور کر لیا ہے، جس کی حتمی منظوری کے بعد جاپانی فوجوں کو بیرون ملک عسکری کارروائیوں میں حصہ لینے کی اجازت مل جائے گی۔جاپان میں ملکی فوجوں کو بیرون ملک عسکری کارروائیوں میں حصہ لینے کی اجازت دینے کے اس بل کے معاملے پر ملکی عوام تقسیم ہے۔ اسے جاپان کی سلامتی سے متعلق ملکی پالیسیوں میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر پارلیمان سے بھی اسے منظوری حاصل ہو گئی تو جاپانی افواج بیرون ملک آپریشنز میں حصہ لینے کے علاوہ اقوام متحدہ کے زیر نگرانی جاری کسی بھی آپریشن میں غیر ملکی فوجوں کو نقل و حمل میں تعاون فراہم کر سکیں گی۔ان مجوزہ تبدیلیوں کا ایک ایسے موقع پر اعلان کیا گیا ہے، جب ابھی گزشتہ ماہ ہی امریکا اور جاپان کے مابین نئی دفاعی حکمت عملی پر اتفاق ہوا ہے۔ اِس کے تحت خطے میں جاپان کے کردار کو وسیع کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ جاپانی وزیراعظم شنزو آبے کی کابینہ نے گزشتہ برس جولائی میں پر امن ملکی آئین میں اصلاحات کی ایک قرارداد منظور کی تھی، جس کا مقصد مشترکہ دفاعی مشقوں اور کسی دوست ملک پر حملے کی صورت میں فوجی تعاون فراہم کرنے پر عائد خود ساختہ پابندی ختم کرنا تھا۔اس موقع پر بیجنگ حکومت نے کہا ہے کہ جاپان کو تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے جبکہ جنوبی کوریا نے ٹوکیو حکومت سے آئین کی روح پر قائم رہنے کے لیے کہا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان ہووا چ±نینگ نے بیجنگ میں صحافیوں کو بتایا، ”ہمیں امید ہے کہ جاپان کو تاریخ سے سبق سیکھتے ہوئے پر امن طریقے سے ترقی کرنے کی راہ پر گامزن رہنا چاہیے۔ جاپان کو ایشیائی خطے میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔دوسری عالمی جنگ کے بعد سے جاپان کے جنوبی کوریا اور چین دونوں کے ساتھ باہمی تعلقات کشیدہ ہیں۔ گزشتہ برسوں کے دوران بیجنگ اور ٹوکیو کے روابط میں کچھ بہتری آئی ہے تاہم بحیرہ جنوبی چین کے کچھ علاقوں پر ملکیت کے دعوو¿ں کی وجہ سے تعلقات میں تناو¿ دیکھا جا رہا ہے۔ اس قرارداد پر جاپانی پارلیمان میں بحث ہونا ابھی باقی ہے تاہم آبےکی اکثریت ہونے کی وجہ سے اس کے منظوری میں کوئی دشواری نہیں آئے گی۔جاپان میں کرائے جانے والے جائزوں کے مطابق آئین میں کی جانے والی ان اصلاحات پر ملکی عوام مختلف رائے رکھتی ہے۔ نشریاتی ادارے ’این ایچ کے‘ نے ایک سروے کے نتائج نشر کیے ہیں، جس کے مطابق یہ مجوزہ تبدیلیاں 49 فیصد عوام کو مکمل طور پر سمجھ نہیں آ رہیں جبکہ پچاس فیصد عوام امریکا اور جاپان کی دفاعی حکمت عملی کے تناظر میں ملکی افواج کی بڑھتے ہوئے کردار کے خلاف ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…