اسلام آباد(نیوز ڈیسک)امریکہ کی سابق وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے تسلیم کیا ہے کہ انھوں نے امریکی وزیر خارجہ رہتے ہوئے بھی اپنے ذاتی ای میل اکاو¿نٹ کو استعمال کیا تھا۔ غیر ملکی خبر رسا ں ادارے کے مطا بق ہلیری کے اعتراف کے بعد اب سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا ایسا کر کے انہوں نے امریکی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے؟امریکی محکمہ خارجہ ہلیری کی جانب سے ذاتی ای میل اکاو¿نٹ کے استعمال کا ممکنہ طور پر وفاقی قانون کی خلاف ورزی کے طور پر جائزہ لے رہا ہے۔امریکہ میں 2016 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ہیلری کلنٹن کو ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے بڑے دعویداروں میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے۔ہلیری کی جانب سے ذاتی ای میل کے استعمال پر ان کی حریف ریپبلکن پارٹی ہی نہیں بلکہ ان کی اپنی ڈیموکریٹک پارٹی کے کئی رہنما بھی ہلیری کلنٹن پر تنقید کر رہے تھے کہ وہ اس سلسلے میں جواب کیوں نہیں دے رہی ہیں۔ ایک پریس کانفرنس میں ہلیری نے کہا کہ اگر وہ ذاتی اور سرکاری ای میلز کو الگ رکھتیں تو بہتر ہوتا۔ان کا کہنا تھا ’جب میں وزیر خارجہ تھی تو میں نے اپنی سہولت کے لیے ذاتی ای میل اکاو¿نٹ کا ہی استعمال کیا اور ایسا کرنے کی اجازت وزارت خارجہ میں تھی۔ میں نے سوچا کہ یہ آسان ہو گا کیونکہ ذاتی اور سرکاری ای میل بھیجنے کے لیے مجھے دو دو فون لے کر نہیں چلنا ہوگا۔‘تاہم انھوں نے کہا کہ ’اب پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو لگتا ہے کہ بہتر ہوتا کہ اگر میں سرکاری ای میل اکاو¿نٹ کا استعمال کرتی اور دوسرا فون بھی لے کر چلتی، لیکن اس وقت میرے لیے یہ بات مسئلہ ہی نہیں تھی۔‘امریکی قوانین کے مطابق وفاقی اہلکاروں کی تمام خط و کتابت کو سرکاری ریکارڈ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ہلیری جنوری 2009 سے لے کر فروری 2013 تک امریکہ کی وزیر خارجہ رہیں اور اس دوران انہوں نے تقریبا 60 ہزار ای میلز بھیجیں جن میں سے تقریباً آدھی ذاتی نوعیت کی تھیں۔امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ انہیں تقریباً 55 ہزار صفحات پر شائع شدہ یہ ای میل ملے ہیں اور جائزے کے بعد انہیں جاری کر دیا جائے گا۔ہلیری کلنٹن نے بھی اپنی ذاتی ای میل کے استعمال کے حوالے سے بڑھتے ہوئے تنازعے کے جواب میں حکام سے کہا تھا کہ ان کی ای میلز کو منظرعام پر لایا جائے۔امریکہ کے سرکاری واچ ڈاگ اور نیشنل آرکائیو اور ریکارڈ ایڈمنسٹریشن کے سابق اہلکاروں نے نیویارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ ہیلری کلنٹن کا اتنے بڑے پیمانے پر سرکاری کام کے لیے ذاتی ای میل کا استعمال قانون کی ایک سنگین خلاف ورزی ہے۔اس حوالے سے ایک بڑا خدشہ یہ بھی ہے کہ ذاتی ای میل اکاو¿نٹ پر ہیکرز کی جانب سے حملے کا شکار ہونے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔
سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن پچھتا وے کا شکا ر
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)
-
ہونڈا CD 70 خریدنے والوں کے لیے اہم خبر
-
حج 2027 پیکیجز، پہلی قسط اور اخراجات کی تفصیلات جاری
-
اسکول ہفتے میں 6 روز کھلیں گے ،نوٹیفکیشن جاری
-
متحدہ عرب امارات نے پاکستانیوں کو ویزے جاری کرنا شروع کردیے
-
اوم پوری کی اہلیہ نے شوہر کے ملازمہ سے تعلقات کا انکشاف کردیا
-
پی ٹی آئی رہنما کے قتل میں بڑی پیشرفت، قتل کے ماسٹر مائنڈ کا نام اور وجہ سامنے آگئی
-
واٹس ایپ میں ایک نئی دلچسپ اپ ڈیٹ کر دی گئی
-
سعودی عرب جانے والے پاکستانیوں کے لیے بڑا اعلان
-
پوتے نے بیگ میں توپ کے گولے رکھ دئیے، دادی ایئرپورٹ پر پکڑی گئیں
-
غلط ای چالان منسوخ کرانے کا آن لائن طریقہ پنجاب حکومت نے بتا دیا
-
اگر مزید جہازنہیں بھیجاگیا تو اسرائیل کے بجائے امریکی دفاع کے انتخاب پر مجبور ہوں گے، امریکی جنرل
-
پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر کے قتل میں ملوث ملزم کوگی بٹ کا مبینہ وائس نوٹ سامنے آگیا
-
بینک سے سونا غائب کرنے اور 5 کروڑ کے فراڈ کے الزام میں بینک کیشئر سمیت 2 افراد گرفتار



















































