بدھ‬‮ ، 04 مارچ‬‮ 2026 

ترک افواج سلطنت عثمانیہ کے شاہ کے مزارکی حفاظت کے لئے شام میں داخل

datetime 23  فروری‬‮  2015 |

انقرہ: ترکی کے سیکڑوں فوجی اور بکتر بند گاڑیاں سلطنتِ عثمانیہ کے شاہ کے مزار کی حفاظت کے لیے شام میں داخل ہوگئی ہیں۔

ترکی کےسرکاری ٹی وی کے مطابق وزیراعظم داؤد اوغلو کا کہنا تھا کہ شام میں خلافت عثمانیہ کے شاہ سلیمان کے مزار کی حفاظت کے لئے ترک فوج کا  آپریشن ہماری روحانی اقدار کی حفاظت کے لئے کیا جارہا ہے جو شام کے خطرناک حالات کے باوجود انتہائی کامیابی سے  جاری ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ  سلیمان شاہ کی باقیات شام میں کسی اور محفوظ مقام پر منتقل کی جائیں گی جب کہ  افواج نے مزار کی عمارت توڑ دی ہے  تاکہ اسے شام کے شدت پسندوں کے استعمال اور ممکنہ حملے سے محفوظ رکھا جاسکے۔

دوسری جانب شام کی حکومت نے  ترک فوج کے  آپریشن پر احتجاج کرتے ہوئے اسے ’’ کھلی جارحیت‘‘ قرار دیا، شام کے سرکاری ٹی وی پر جاری ایک بیان میں حکومت کا کہنا تھا کہ  گوکہ ترکی نے استنبول میں واقع ہمارے قونصل خانے کو اس حوالے سے آگاہ کردیا تھا تاہم  ترک حکومت نے  1921 کے معاہدے کی پاسداری نہیں کی۔

واضح رہے کہ  مزار سلطنتِ عثمانیہ کے اہم بادشاہ سلیمان شاہ کا ہے جو عثمان اول کے دادا تھے جنہوں نے کئی صدیوں تک حکومت کرنے والی سلطنتِ عثمانیہ کی بنیاد رکھی تھی  جب کہ شام اور ترکی کے درمیان 1921 میں  ایک معاہدہ طے پایا تھا کہ ترک افواج مزار کی حفاظت کے لیے شام میں موجود رہیں گی اور تب سے اب تک 40 ترک فوجی مزار کی حفاظت کرتے ہیں جب کہ مارچ 2014 میں شام میں موجود داعش جنگجوؤں نے دھمکی دی تھی  کہ اگر مزار کی حفاظت پر ما مور ترک افواج  واپس نہیں جاتیں تو مزار پر حملہ کیا جائے گا جس پر ترک حکومت کا کہنا تھا کہ مزار پر حملہ دراصل  ترکی پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…