خانہ جنگی کا شکار شام کے جنوبی علاقوں میں حکومت نواز ملیشیاؤں اور باغی گروپوں کے درمیان گذشتہ ایک ہفتے سے شدید لڑائی جاری ہے اور اس میں کم سے کم ایک سو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ شامی فوج نے اپنی اتحادی ملیشیاؤں لبنان کی حزب اللہ اور دوسرے گروپ کے ساتھ مل کر جنوبی صوبے درعا اور القنیطرہ میں گذشتہ ہفتے باغی گروپوں کے خلاف ایک بڑے حملے کا آغاز کیا تھا۔ان میں القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ بھی شامل ہے۔ برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے اتوار کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ سرکاری فورسز کے ساتھ لڑائی میں پچاس سے زیادہ باغی جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ شامی فوج کے تینتالیس ارکان مارے گئے ہیں۔ان میں بارہ افسر بھی شامل ہیں۔ رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ علاقے میں اب موسم بہتر ہوگیا ہے،شامی فوج باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کرے گی اور پھر پیش قدمی کرے گی۔قبل ازیں موسم کی خرابی کے باعث شامی فوج نے باغیوں کے خلاف فضائی حملے روک دیے تھے۔انھوں نے شام میں موجود اپنے نیٹ ورک کے حوالے سے بتایا ہے کہ دمشق سے درعا تک کے جنوب مغربی علاقے میں قریباً پانچ ہزار شامی فوجی اور ان کے اتحادی جنگجو گروپ باغیوں کے خلاف کارروائی میں حصہ لے رہے ہیں۔اس کا مقصد القنیطرہ شہر تک باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینا ہے۔ شام کے سرکاری میڈیا اور حزب اللہ کے المنار ٹی وی نے اسی ہفتے دمشق سے جنوب میں واقع علاقے میں لڑائی کی اطلاع دی تھی اور ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ سرکاری فوج ”دہشت گردوں” کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینے میں کامیاب ہورہی ہے۔شامی میڈیا نے یہ بھی کہا تھا کہ لڑائی میں متعدد باغی جنگجو مارے گئے ہیں لیکن سرکاری ذرائع نے ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی ہے۔ دوسری جانب ایک باغی گروپ علویات سیف الشام کے ترجمان ابوغیث کا کہنا ہے کہ اس وقت ہمارے اور سرکاری فوج کے درمیان ”مارو اور بھاگ جاؤ” ایسی صورت حال ہے۔اس گروپ کے جنگجو بھی بشارالاسد مخالف باغی دھڑوں کے اتحاد ”جنوبی محاذ” کا حصہ ہیں۔ ابوغیث نے شام سے انٹرنیٹ کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ گذشتہ دو روز کے دوران لڑائی ٹھنڈی پڑ گئی ہے لیکن سرکاری فوج القنیطرہ کے شمال مشرق میں واقع ایک گاؤں کا محاصرہ کررہی ہے اور اس نے دمشق کے جنوب میں واقع بعض دیہات اور قبضوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔ آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ حکومت کے حامی دس جنگجوؤں کو دشمن باغیوں کو معلومات فراہم کرنے کے الزام میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ لڑائی میں النصرۃ محاذ کے متعدد جنگجو مارے گئے ہیں لیکن انھوں نے ان کی ہلاکتوں کی حتمی تعداد نہیں بتائی ہے۔
شام:اسدی فوج اور باغی گروپوں میں شدید لڑائی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)
-
امریکی ویزا کے خواہشمند پاکستانیوں کے لئے بڑا اعلان
-
پاکستان ایران سے ناراض ہو گیا ہےیہ ناراضگی اس خط سے شروع ہوئی جو دینے کیلئے۔۔۔جاوید چوہدری کا حیران...
-
کون سا پاکستانی شہری اب ملک میں داخل نہیں ہو سکے گا؟ ہوائی اڈوں کو ہدایات جاری
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان
-
لاہور میں فیکٹری مالک کو انسپکشن کیلئے آنے اسسٹنٹ کمشنر سے تعارف پوچھنا مہنگا پڑ گیا
-
5 سالہ سروس مکمل کرنے والے ملازمین کے لئے اہم خبر آگئی
-
سرکاری ملازمین کے لئے بڑی خوشخبری آگئی
-
750 روپے مالیت کے پرائز بانڈ رکھنے والوں کیلئے خوشخبری
-
سعودی عرب کا نیا “پیکیج ویزا” متعارف، پاکستان سمیت 7 ممالک کے شہری مستفید ہوں گے
-
اداکارہ ہما سلیم کے معروف کرکٹر پر سنگین الزامات، قانونی کارروائی کا اعلان
-
سلطان محمود غزنوی نے سومنات کے بت مسمار کر کے “غلطی” کی ، افغان وزیر کا بیان، اسلامی...
-
فیصل آباد میں شوہر نے مبینہ طور پر قرض کی رقم کے بدلے اپنی بیوی کو دوست کے ہاتھوں فروخت کر دیا
-
عمرہ نظام میں بڑی اصلاحات، نئے رولز نافذ کر دیے گئے



















































