منگل‬‮ ، 07 اپریل‬‮ 2026 

’پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف پالیسی پر اظہار تشویش‘

datetime 14  فروری‬‮  2015 |

امریکی کانگریس کی خارجہ امور کمیٹی نے امریکی وزیر خارجہ کو ایک خط میں پاکستان پر دہشت گردوں کے خلاف دوغلی پالیسی جاری رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے امریکی پالیسی کو تبدیلی کرنے اور پاکستان کے خلاف پابندیاں عائد کرنے اور پاکستان کے بارے میں پالیسی تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکہ وزارت خارجہ نے تاحال اس خط پر کسی قسم کے رد عمل کے اظہار سے اجتناب کرتے ہوئے کہا ہے اس خط کے مندرجات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایوان نمائندگان میں امور خارجہ کمیٹی کے چیئرمین ایڈ رائس اور رپبلکن سینئر رکن ایلیٹ اینگل نے خط میں امریکہ کو پاکستان کے بارے میں پالیسی میں بڑی تبدیلی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملکوں میں صحیح معنوں میں تب تک کوئی شراکت نہیں ہو سکتی جب تک کہ پاکستان تمام دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ مکمل طور سے تعلقات نہیں ختم کرتا۔ ایوان نمائندگان میں امورِ خارجہ کی کمیٹی کے چیئرمین ایڈ رائس نے امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کو خط لکھ کر کہا ہے کہ امریکہ کو پاکستان کے معاملے میں ایک نیا رخ اپنانے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے لکھا ہے، ’ہم گزارش کرتے ہیں کہ آپ پاکستان پر سفری پابندیاں لگائیں، ان کو جو مدد دی جاتی ہے اس کے کچھ حصوں پر لگام كسیں اور جن پاکستانی اہلکاروں کے دہشتگرد اداروں کے ساتھ تعلقات ہیں ان پر پابندیاں عائد کریں۔‘ انھوں نے لکھا ہے کہ ’پاکستانی حکومت نے القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کچھ اقدامات کیے ہیں لیکن ایسے کئی ادارے جنہیں دہشت گرد قرار دیا گیا ہے جیسے لشکرِ طیبہ، لشکرِجھنگوي اور جیشِ محمد، ان کے خلاف کچھ خاص کارروائی نہیں ہوئی ہے۔‘ ان کا کہنا ہے ’یہ پالیسی اس سوچ کے تحت ہے جس میں سمجھا جاتا ہے کہ کچھ دہشت گرد ادارے بھارت اور افغانستان میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے کام آ سکتے ہیں۔‘ خارجہ معاملات کی یہ کمیٹی کافی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کے چیئرمین ریپبلكن ہیں اور نائب چیئرمین ڈیموكریٹ ہیں اس لیے اسے دونوں ہی پارٹیوں کی نمائندگی حاصل ہے۔انھوں نے لکھا ہے کہ ’ہم پاکستان کے اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں کہ وہ حقانی نیٹ ورک پر جلد ہی پابندی لگا دے گا لیکن ہمیں شک ہے کہ اس سے پاکستان کی پالیسی میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئے گی۔‘ ان کا کہنا ہے، ’آخر لشکرِطیبہ اور جماعت الدعوۃ جیسی تنظیموں پر تو پابندی لگی ہوئی ہے لیکن وہ آزادی سے گھوم رہے ہیں۔ کچھ ہی دنوں پہلے 25 جنوری کو کراچی میں جماعت الدعوۃ کی ریلی ہوئی جسے دیکھ کر لگا رہا تھا کہ حکومت نے اس کی منظوری دے رکھی ہے۔‘ انھوں نے لکھا ہے کہ پاکستان خود بھی دہشت گردی کا شکار بنا ہے اور 2013 میں 3،000 سے زیادہ پاکستانی شہری اس کا شکار بنے۔ لیکن پاکستان کو صحیح معنوں میں اپنے لوگوں کی زندگی بہتر کرنی ہے تو اس کے رہنماؤں کو پرانی پالیسی کو تبدیل کرنا ہوگا۔ دفترِ خارجہ کی ترجمان جین ساكی نے کہا ہے کہ انھوں نے فی الحال یہ خط نہیں دیکھا ہے اور نہ ہی وہ اس بات کی تصدیق کر سکتی ہیں کہ وزیرِ خارجہ جان کیری نے اسے دیکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس کے اس خط کا جواب دیا جائے گا۔ اس کے پہلے ہندوستان اور پاکستان کے وزيرِ اعظم کے درمیان ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت کا خیر مقدم کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے رشتوں میں بہتری پوری جنوبی ایشیا میں امن و امان اور سلامتی کے لیے اہم ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…