منگل‬‮ ، 10 مارچ‬‮ 2026 

یوکرائن میں تشدد جاری، جی سیون کا انتباہ

datetime 14  فروری‬‮  2015 |

مشرقی یوکرائن میں بڑھتے ہوئے تشدد پر جی سیون کے رہنماؤں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ روس شورش زدہ علاقے میں مزید فوجی روانہ کر رہا ہے۔ مشرقی یوکرائن میں فعال روس نواز باغیوں اور یوکرائنی فوجیوں کے مابین ہونے والی تازہ جھڑپوں میں مزید اٹھائیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ گزشتہ ویک اینڈ پر امن ڈیل کے باوجود اطراف کی طرف سے شیلنگ کے نتیجے میں قیام امن کی یہ نئی کوشش بھی ناکام ہوتی نظر آ رہی ہے۔ اس صورتحال میں سات ترقی یافتہ ممالک کے گروپ جی سیون نے یوکرائن کی صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں۔ جمعے کی رات اس گروہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا، ’’اس تنازعے میں شریک تمام پارٹیوں کو ایسے عمل سے اجتناب کرنا چاہیے، جس کی وجہ سے سیز فائر کے معاہدے پر عملدرآمد میں مشکل ہو جائے۔‘‘ جی سیون نے خبردار کیا ہے کہ اگر جرمنی اور فرانس کی مصالحت سے اختتام ہفتہ پر طے پانے والی منسک ڈیل کی خلاف ورزی کی گئی تو سخت ایکشن لیا جا سکتا ہے، ’’ جو کوئی بھی مسنک ڈیل کی خلاف ورزی کرے گا، جی سیون اس کے خلاف مناسب ایکشن لینے کے لیے تیار ہے، بالخصوص ان لوگوں کے خلاف جو طے شدہ جامع فائر بندی کا احترام نہیں کرتے اور بھاری اسلحہ محاذوں سے واپس نہیں لے جاتے۔‘‘ جی سیون میں کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان ، برطانیہ اور امریکا کے علاوہ یورپی یونین کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ یوکرائنی علاقے کریمیا کو اپنا حصہ بنانے پر عالمی طاقتوں نے احتجاجی طور پر روس کو جی ایٹ سے نکال دیا تھا۔ مغربی طاقتوں کا کہنا ہے کہ ماسکو یوکرائن میں حکومت مخالف سرگرمیوں کو ہوا دینے کے علاوہ مشرقی یوکرائن میں باغیوں کی پشت پناہی بھی کر رہا ہے۔ تاہم کریملن ایسے الزامات مسترد کرتا ہے۔ ادھر یوکرائنی صدر پیٹرو پوروشینکو نے کہا ہے کہ یوکرائن میں باغیوں کی کارروائیوں کی وجہ سے منسک ڈیل کے متاثر ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’افسوس کی بات ہے کہ منسک ڈیل کو حتمی شکل دینے کے بعد روس کی جارحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ معاہدہ شدید خطرے میں ہے۔‘‘ دریں اثناء امریکا نے ماسکو حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مشرقی یوکرائن میں فعال باغیوں کو مزید اسلحہ فراہم کر رہی ہے۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور فرانسیسی صدرفرنسوا اولانڈ کی کوششیں سے طے پانے والے منسک معاہدے کے مطابق ہفتے اور اتوار کی شب سے مشرقی یوکرائن میں فائر بندی پر عملدرآمد شروع ہو جانا چاہیے۔ اس ڈیل میں اطراف نے اس بات پر بھی اتفاق کیا تھا کہ وہ بھاری ہتھیار فوری طور پر محاذوں سے ہٹا لیں گے۔ واضح رہے کہ مشرقی یوکرائن میں گزشتہ دس ماہ سے جاری خونریز تنازعے کے نتیجے میں اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق 54 سو افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ایک اور پیشرفت میں جورجیا کے سابق صدر میخائل ساکاشویلی کو یوکرائنی صدر پوروشینکو کا خصوصی مندوب چن لیا گیا ہے۔ ساکاشویلی جنگ سے تباہ حال ملک یوکرائن میں اصلاحات کے لیے پوروشینکو کو خصوصی معاونت فراہم کریں گے۔ سابقہ سوویت جمہوریہ یوکرائن کے صدر نے ہفتے کے دن بتایا کہ ساکاشویلی یوکرائن میں بین الاقوامی کمیونٹی کے نمائندے کے طور پر کردار ادا کرتے ہوئے بیرون ممالک میں یوکرائن کی نمائندگی بھی کریں گے۔ ساکاشویلی نے کہا ہے کہ تمام یوکرائنی باشندے بدعنوانی اور ناانصافی سے پاک معاشرے کے مستحق ہیں۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…