پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

وہ بڑا ملک جہاں اب کتے سونگھ کر کورونا پازٹیو بتائیں گے 

datetime 22  جنوری‬‮  2021 |

برسلز (این این آئی )بیلجیئم میں اب کتے سونگھ کر بتا سکیں گے کہ کون شخص کورونا پازیٹیو ہے۔یہ اطلاع بیلجئین میڈیا کے ذریعے سامنے آئی جس میں بتایا گیا  کہ ملک میں کتوں کی ٹریننگ کا ایک ایسا پروگرام جاری ہے جس کے بعد ٹرینڈ کتے صرف سونگھ کر یہ بتانے کے قابل ہوجائیں گے کہ کون شخص کورونا وائرس سے متاثر ہے اور کون نہیں۔ اس تجویز کے خالق جلد کی

مائیکرو بیالوجی کے ایک ماہر ڈاکٹر کرس کالورٹ نے گزشتہ سال اگست میں یہ آئیڈیا پیش کیا تھا۔ان کی تجویز میں جسم سے نکلنے والے پسینے کی بو کو پیش نظررکھتے ہوئے یہ خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ اگر ایسے لوگوں کا ایک ڈیٹا بیس یا پروفائل بنا لیا جائے جنہیں کورونا وائرس رہ چکا ہے تو اس کے ذریعے کتوں کو ٹرینڈ کیا جا سکتا ہے ۔ اس حوالے سے انہوں نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ ایسے لوگ سامنے آئیں جنہیں پہلے کورونا رہ چکا ہو۔ڈاکٹر کالورٹ کے مطابق کورونا وائرس پسینے میں ایک خاص طرح کی بو پیدا کرتا ہے۔ ان کے مطابق کورونا وائرس صرف لعاب اور ناک سے نکلنے والی رطوبت کے ذرات سے پھیلتا ہے۔ یہ جلد یا اس پر موجود پسینے کے ذریعے نہیں پھیلتا۔ڈاکٹر کالورٹ کی اس تجویز کو جانچنے کے لیے اس پر کام کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جس کے بعد آرمی کے بم اور دھماکے دار اشیا کی تلاش کرنے والے، پولیس کے منشیات سونگھنے والے اور فائر سروس کے ملبے میں دبے ہوئے افراد کو تلاش کرنے والے چند کتوں کو اس حوالے سے خصوصی تربیت دی جا رہی ہے۔ڈاکٹر کالورٹ کے مطابق یہ تربیت 6 ہفتوں پر مشتمل ہوگی۔ جس میں پہلے دو ہفتے کتے صرف کورونا وائرس سے مثبت افراد کے پسینے کی بو سونگھیں گے۔جس کے بعد منفی اور پھر مثبت کی یہ ٹریننگ جاری رہے گی۔ چھ ہفتوں کے ٹریننگ کے بعد ان کتوں کو سب سے پہلے آرمی میں ہی تحقیق اور اس کے مثبت اثرات جاننے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ جس کے بعد ان کتوں کو ائیرپورٹ اور ہر ایسی جگہ پر بھی آسانی سے استعمال کیا جا سکے گا جہاں مسافروں کی آمدورفت ہو۔امید ہے کہ اگلے ماہ میں کسی وقت یہ کتے فائنل ٹیسٹ کے بعد تعیناتی کے لیے تیار ہوں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…