جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

چہرے پرڈمپلز کیوں پڑتے ہیں،حیران کن وجہ سامنے آگئی

datetime 30  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چہرے پر ڈمپل کسے اچھے نہیں لگتے ؟ڈمپل آخر کیوں پڑتے ہیں ،ایسا کیوں ہے کہ آخر بہت ہی کم لوگوں کے چہروں پر یہ ڈِمپل مسکراہٹ کے دوران نظر آتے ہیں۔آخر اس کی وجہ کیا ہے؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس حوالے سے سائنس خود بھی کوئی واضح رائے نہیں رکھتی

بلکہ اس معاملے پر تقسیم نظر آتی ہے۔ویسے تصور کیا جاتا ہے کہ یہ ڈِمپل جینیاتی اثر کے باعث ہوتے ہیں، یعنی اگر والدین کے چہروں پر یہ ڈمپل ہوں تو بچے کی خوبصورتی بھی اس سے بڑھ جاتی ہے۔ تاہم کچھ سائنسدانوں کا کہناہے کہ یہ درحقیقت چہرے کے مسلز میں آنے والا نقص ہے، جسے zygomatic مسل کے اسٹرکچر میں آنے والا نقص بھی کہا جاسکتا ہے۔یہ وہ بڑا مسل ہے جو چہرے کے سائیڈ میں ہوتا ہے، ڈِمپل کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ یہ مسلز کو تقسیم کردیتے ہیں جو کہ عام طور پر ایک پیس میں ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس کا فائدہ کیا ہوتا ہے ؟ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ چہرے کے یہ گڑھے ارتقائی مراحل سے گزرے ہیں اور اس سے انسانوں کو اپنے چہرے کے تاثرات سے دوسروں سے ابلاغ کا راستہ ملا ہے۔ چہرے پر پڑنے والے ڈِمپل سے لوگوں کو اپنی مسکراہٹ پر توجہ حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے اور خوشی کا اظہار بھی آسان ہوجاتا ہے اور ہاں یہ ڈِمپل قدرتی ہوتے ہیں انہیں کسی ٹیکنالوجی یا کسی اور طریقے سے چہرے پرنہیں لایا جا سکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…