بدھ‬‮ ، 25 فروری‬‮ 2026 

یہ ہوتی ہے ریاست مدینہ ، مدینہ میں کھاتے دار کو 1 پیسے کا پے آرڈر موصول جانتے ہیں پے آرڈرپر حکومت نے کتنا خرچ قومی خزانے سے برداشت کیا ؟

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کی ریاست مدینہ طرز کی حکومت کا اثر ہے یا کچھ اور؟ کہ کراچی کے ایک بینک نے ایک سال قبل ختم کیے گئے اکائونٹ کے مالک محمد افضل کو ایک پیسے کا پے آرڈر گھر پر پہنچا دیاجبکہ پے آرڈرپرتقریباً400روپے سے زائد کے اخراجات آئے ۔تفصیلات کے مطابق اس دستاویز کی تیاری، ترسیل اور کوریئر سروس کے کھاتہ دار کے گھر تک دستخط کے ساتھ

ڈلیوری پر بینک کے 400 روپے سے زائد کے اخراجات آئے ہیں، یہ رقم کہاں سے آئی؟ ان معلومات کے حصول کے سلسلے میں کھاتہ دار کی جانب سے تحقیقات پر بھی اتنے ہی اخراجات آچکے ہیں۔بینک الفلاح کی پی آئی ڈی سی پر واقع بیومنٹ پلازہ برانچ کے ایک کھاتے دار نے ایک سال پہلے اپنا اکاونٹ بند کرا دیا تھا، بینک کی جانب سے رواں سال 9 مئی کو اکاونٹ کلوزنگ کا خط کھاتے میں موجود تمام بقایاجات 199 روپے 88 پیسے کے پے آرڈر کے ساتھ موصول ہوا۔18 اکتوبر کو اسی بینک کی جانب سے بند کرائے گئے اکاونٹ کے حوالے سے ملنے والے ایک اور پے آرڈر نے کھاتے دار کو حیرت زدہ کردیا، وجہ حیرت بند اکاونٹ کا ایک اور پے آرڈر پر نہیں بلکہ اس میں درج رقم بنی، بینک کی جانب سے کھاتے دار کو جو رقم واپس کی گئی ہے وہ صرف ایک پیسہ ہے۔اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر بینک انتظامیہ یہ بتانے سے قاصر ہے کہ یہ رقم اکاونٹ ہولڈر کے حصے میں کس مد سے آئی، ایک سادہ سا حساب کتاب کریں تو ریاست مدینہ کی یاد تازہ ہوجاتی ہے کہ اس دور میں حکومت یا کوئی اور کسی شخص کی ایک پائی بھی سلب نہیں کرسکتے تھے اور یہی کچھ آج بینک الفلاح کی انتظامیہ نے کر دکھایا ، خواہ اس سلسلے میں بینک انتظامیہ کے کتنے بھی اخراجات آئے ہوں۔بینک کی جانب سے اس پے آرڈر کی تیاری اس کی ترسیل اور کوریئر سروس کے ذریعے رجسٹرڈ وصولی پر 400 روپے سے زائد کے اخراجات آئے ہیں جبکہ کھاتا دار کے اس سلسلے میں تحقیقات کے لیے بینک آنے جانے کے حساب کتاب بھی اس کے مساوی بنتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…