اتوار‬‮ ، 25 جنوری‬‮ 2026 

چڑوں کے خلاف اعلان جنگ 2, کروڑ شہریوں کی جان لے گیا

datetime 15  جنوری‬‮  2019 |

بیجنگ (نیوز ڈیسک) چین کے انقلابی لیڈر ماﺅزے تُنگ کے دور میں بڑے بڑے انقلابی کام کئے گئے اور انہیں میں سے ایک کام فصلیں خراب کرنے والے حشرات اور پرندوں کے خلاف چار سالہ جنگ تھی۔ چینی رہنما کے حکم پر 1958 سے 1962ءتک Four Pests Campaign نامی مہم کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد مچھروں، مکھیوں، چوہوں اور چڑیا کی ایک عام قسم کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا تھا۔

چینی حکام کا خیال تھا کہ یہ جاندار چاول اور دیگر فصلوں کو نقصان پہنچا رہے تھے لہٰذا ان کے خاتمہ کے لئے ملک بھر میں مہم شروع کردی گئی۔ اس مہم کے دوران لوگوں نے ان جانداروں کا ہر جگہ تعاقب کیا اور اگرچہ چڑیا کا اس مہم کا نشانہ بننا ایک حیرت انگیز بات تھی لیکن بدقسمتی سے اس پرندے کو بھی تقریباً خاتمے کے قریب پہنچا دیا گیا۔ لوگوں نے چڑیوں کے گھونسلے تباہ کردئیے، ان کے انڈے توڑ دئیے، ان کے بچے مار دئیے اور جہاں بھی کوئی چڑیا دانا دنکا چگنے کی کوشش کرتی برتن اور ٹین کے ڈبے بجا کر اسے اڑادیا جاتا۔ اس مہم کا نتیجہ یہ ہوا کہ پورے ملک میں بیچاری چڑیا کا نام و نشان ختم ہوگیا لیکن اس ظلم کا نتیجہ یہ نکلا کہ چین پر قحط کا عذاب مسلط ہوگیا۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ چڑیا کی نسل ختم ہونے سے ان کیڑوں اور حشرات کو کھانے والے پرندے نہ رہے جو کہ اصل میں فصلوں کے لئے سب سے بڑا خطرہ تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چین میں چاول کی فصل تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی جبکہ باقی فصلوں کو بھی کیڑوں اور حشرات نے بے پناہ نقصان پہنچایا اور پورے ملک میں قحط کا سماں پیدا ہوگیا جو تقریباً دو کروڑ لوگوں کی موت کا سبب بنا۔ اگرچہ چینی حکومت چڑیوں کی نسل ختم کرنے پر بہت پچھتائی اور عوام کو احکامات دئیے گئے کہ وہ چڑیا کے خلاف کاروائیاں بند کر دیں لیکن اس فیصلے کے اثرات سامنے آنے تک قحط پورے ملک پر ناقابل تصور قیامت برپا کرچکا تھا۔ چڑیا مارنے پر قحط کا عذاب نازل ہونے کو چینی تاریخ کی خوفناک ترین آفات میں شمار کیا جاتا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…