جمعرات‬‮ ، 02 اپریل‬‮ 2026 

چڑوں کے خلاف اعلان جنگ 2, کروڑ شہریوں کی جان لے گیا

datetime 15  جنوری‬‮  2019 |

بیجنگ (نیوز ڈیسک) چین کے انقلابی لیڈر ماﺅزے تُنگ کے دور میں بڑے بڑے انقلابی کام کئے گئے اور انہیں میں سے ایک کام فصلیں خراب کرنے والے حشرات اور پرندوں کے خلاف چار سالہ جنگ تھی۔ چینی رہنما کے حکم پر 1958 سے 1962ءتک Four Pests Campaign نامی مہم کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد مچھروں، مکھیوں، چوہوں اور چڑیا کی ایک عام قسم کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا تھا۔

چینی حکام کا خیال تھا کہ یہ جاندار چاول اور دیگر فصلوں کو نقصان پہنچا رہے تھے لہٰذا ان کے خاتمہ کے لئے ملک بھر میں مہم شروع کردی گئی۔ اس مہم کے دوران لوگوں نے ان جانداروں کا ہر جگہ تعاقب کیا اور اگرچہ چڑیا کا اس مہم کا نشانہ بننا ایک حیرت انگیز بات تھی لیکن بدقسمتی سے اس پرندے کو بھی تقریباً خاتمے کے قریب پہنچا دیا گیا۔ لوگوں نے چڑیوں کے گھونسلے تباہ کردئیے، ان کے انڈے توڑ دئیے، ان کے بچے مار دئیے اور جہاں بھی کوئی چڑیا دانا دنکا چگنے کی کوشش کرتی برتن اور ٹین کے ڈبے بجا کر اسے اڑادیا جاتا۔ اس مہم کا نتیجہ یہ ہوا کہ پورے ملک میں بیچاری چڑیا کا نام و نشان ختم ہوگیا لیکن اس ظلم کا نتیجہ یہ نکلا کہ چین پر قحط کا عذاب مسلط ہوگیا۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ چڑیا کی نسل ختم ہونے سے ان کیڑوں اور حشرات کو کھانے والے پرندے نہ رہے جو کہ اصل میں فصلوں کے لئے سب سے بڑا خطرہ تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چین میں چاول کی فصل تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی جبکہ باقی فصلوں کو بھی کیڑوں اور حشرات نے بے پناہ نقصان پہنچایا اور پورے ملک میں قحط کا سماں پیدا ہوگیا جو تقریباً دو کروڑ لوگوں کی موت کا سبب بنا۔ اگرچہ چینی حکومت چڑیوں کی نسل ختم کرنے پر بہت پچھتائی اور عوام کو احکامات دئیے گئے کہ وہ چڑیا کے خلاف کاروائیاں بند کر دیں لیکن اس فیصلے کے اثرات سامنے آنے تک قحط پورے ملک پر ناقابل تصور قیامت برپا کرچکا تھا۔ چڑیا مارنے پر قحط کا عذاب نازل ہونے کو چینی تاریخ کی خوفناک ترین آفات میں شمار کیا جاتا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…