پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

امریکا، خاتون کے ہاتھوں محبوب کا عجیب قتل،اپنے وزن سے دبا کر مارڈالا

datetime 7  دسمبر‬‮  2018 |

نیویارک(آئی این پی)دنیا بھر میں مجرمان قتل کیلیے الگ الگ آلات استعمال کرتے ہیں، لیکن امریکا میں ایک بھاری بھرکم خاتون نے اپنے محبوب کو عجیب طریقے سے قتل کردیا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ریاست پنسلوانیا میں پولیس نے ایک خاتون کو

قتل کے الزام میں عدالت میں پیش کیا جس پر الزام ہے کہ اس نے اپنے محبوب کو اپنے وزن تلے دبا کر قتل کیا ہے۔امریکی عدالت نے ونڈی تھامس نامی خاتون پر مقتول کینو بٹلر کو دم گھونٹ کر قتل کرنے کے الزام میں فرد جرم عائد کی اور واردات کو تیسرے درجے کا قتل قرار دیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ44 سالہ ونڈی تھامس کا 18 مارچ کو اپنے محبوب سے جھگڑا ہوا تھا جس پر خاتون نے پہلے چھری سے کینو کا ہاتھ کاٹا پھر میز کا پایا اس کے سر پر دے مارا۔امریکی پولیس کا کہنا ہے کہ بھاری بھرکم خاتون مقتول کے زمین پر گرتے ہی اپنے سے نصف وزن کے کینو کے چہرے پر لیٹ گئی جس کے باعث اس کا دم گھٹ گیا۔غیرملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ کینو بٹلر کا وزن محض 54 کلو ہیجبکہ ونڈی تھامس ڈیڑھ سو کلو وزن کی حامل خاتون ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ عدالت کی جانب سے فربہ خاتون کو غیر ارادی طور پر تیسرے درجے کا قتل کرنے کے جرم میں 18 سے 36 برس قید کی سزا دئیے جانے کا امکان ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ونڈی نے عدالت میں اقرار جرم کرتے ہوئے بتایا کہ واردات کے وقت میں شراب کے نشے تھی اورمیری کینو سے کوکین خریدنے پربحث ہورہی تھی۔ونڈی تھامس نے بتایا کہ میں نے نشے کی حالت میں کینو پر چھری اور میز کے پائے سے حملہ کیا اور سینے کے بل مقتول کے چہرے پر لیٹ گئی اور کچھ دیر بعد کینو کی سانس رک گئی اور وہ ہلاک ہوگیا۔ملزمہ کا کہنا تھا کہ میں نے ارادی طور پر اپنے محبوب کو قتل نہیں کیا، مجھے نشہ اترنے کے بعد احساس ہوا کہ میں نے کیا کردیا۔خاتون کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 44 سالہ کینو بٹلر کا قتل محض ایک حادثہ تھا، میری موکل نشے کے باعث خود کو سنبھال نہ سکی اور مقتول پر گرگئی اورمقتول کی موت دم گھٹنے کے باعث واقع ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…