بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

تیل ، گیس ، سونا اور دیگر معدنیات تو رہیں ایک طرف گوادر کے سمندر سے ایسی قیمتی چیز نکل آئی کہ جس نے دیکھا دنگ رہ گیا

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کو رب تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں سے نواز رکھا ہے، معدنیات ہوں یا زراعت، موسم ہوں یا پانی، سمندر ہوں یا صحرا، میدان ہوں یا پہاڑ وطن عزیز ہر طرح کی نعمتوں سے بھرا پڑا ہے جبکہ دنیا کے متعدد ممالک ان نعمتوں سے محروم ہیں۔ معدنی اعتبار سے پاکستان میں جہاں ایک طرف گیس ، تیل ، کوئلے اور دیگر معدنی دولت کے ذخائر موجود ہیں

وہیں قدرت نے پاکستان کو دیگر ذرائع سے بھی نواز رکھا ہے، بلوچستان کے پہاڑ ہوں یا سمندر سونا اگل رہے ہیں اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ان وسائل کو بہتر انداز میں ملکی و عوامی فلاح و بہبود کیلئے صرف کیا جائے۔ حال ہی میں گوادر کے قریب پشکان کے ساحل سے ایسی نایاب مچھلی پکڑی گئی ہے جس مچھلی کی قیمت بین الاقوامی مارکیٹ میں لاکھوں روپے ہے۔ اس ایک مچھلی کی قیمت 11لاکھ روپے سے زائد بتائی جاتی ہے۔ Sowaاور Kirکے نام سے مشہور یہ مچھلی گوادر کے قریب پشکان کے ساحل سمندر سے مقامی ماہی گیروں نے دو روز قبل پکڑی تھی۔ پشکان کے سمندر سے پکڑی گئی مچھلی کا وزن تقریباً 41 کلو گرام ہے، یہ مچھلی اپنے سینے اور معدے میں پائے جانے والے ایک خاص مادے کی وجہ سے نایاب سمجھی جاتی ہے جو کہ جراحی کے لیے مخصوص ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق پشکان کے ساحل سے پکڑی جانے والی مچھلی کراچی کی ایک فشنگ کمپنی نے گوادر جیٹی پر نیلامی میں خریدی۔یہ مچھلی گوادر جیٹی پر تقریباً 11 لاکھ 48 ہزار روپے میں نیلام ہوئی ہے۔ماہی گیری ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ مچھلی اس لیے نایاب ہے کہ یہ ماہی گیروں کے جال میں شاذو نادر ہی پھنستی ہے۔موجودہ سیزن میں یہ مچھلی انڈے دینے ساحل پر آتی ہے تو ماہی گیروں کے جال میں پھنس جاتی ہے۔گزشتہ سال بھی اسی نسل کی 10 سے زائد مچھلیاں پکڑی گئی تھیں جو بعد میں لاکھوں روپوں میں نیلام ہوئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…