ملتان کی سڑکوں پر بھیک مانگنے والا لکھ پتی نکلا

1  ستمبر‬‮  2018

ملتان(مانیٹرنگ ڈیسک)ملتان کی سڑکوں پر بھیک مانگ مانگ کر ایک ایک روپیہ جمع کرنے والا بھکاری لکھ پتی نکلا۔ شکل و صورت اور اپنے حلیے کے اعتبار سے انتہائی غریب دکھنے والا مظفر گڑھ کے رہائشی نے ملتان کی سڑکوں پر بھیک مانگ مانگ کر اپنے بینک اکاؤنٹ میں لاکھوں روپے جمع کر لیے ہیں۔ شوکت بھکاری نامی شخص اردو، پنجابی اور انگریزی روانی سے بولتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ شوکت بھیک مانگتے مانگتے اب لکھ پتی بن چکا ہے جس کا اعتراف سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں اس نے خود کیا ہے۔ شوکت کا ویڈیو میں کہنا ہے کہ میں روزانہ ملتان سے ایک ہزار روپے کماتا ہوں اور اس طرح مہینے میں 30 ہزار روپے آرام سے کما لیتا ہوں جب کہ یہ ساری رقم بینک اکاؤنٹ میں جمع کراتا ہوں۔ اس کا مزید کہنا ہے کہ آج کل کے دور میں ایک روپیہ کسی کی جیب میں کھلا نہیں ہوتا اسی لیے لوگ مجھے دس سے بیس روپے دے دیتے ہیں۔ شوکت نے بتایا کہ اس کے اکاؤنٹ میں تقریباً 10 لاکھ سے زائد کی رقم موجود ہے جو کہ اس نے بچوں کے نام کردی ہے۔ اس کے علاوہ وہ سالانہ ہزاروں روپے بیمہ پالیسی کی مد میں بھی ادا کرتا ہے، شوکت کا کہنا ہے کہ وہ سالانہ 84 ہزار روپے بیمہ پالیسی کی مد میں ادا کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کھانا بھی مانگ کر کھاتا ہے، چار جگہ سے مانگتا ہے تو ایک سے کچھ نہ کچھ کھانے کو مل ہی جاتا ہے۔ شوکت بھکاری کا یہ بھی کہنا ہے کہ میں نوکری کے لیے ایم این اے اور ایم پی اے کے پاس بھی گیا لیکن دھکے کھا کھا کر اب سڑک کا بادشاہ بن گیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اب اس کے پاس نوٹ ہی نوٹ ہیں اور وہ دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم کے لیے بھی فنڈ دیں گے۔

موضوعات:



کالم



مرحوم نذیر ناجی(آخری حصہ)


ہمارے سیاست دان کا سب سے بڑا المیہ ہے یہ اہلیت…

مرحوم نذیر ناجی

نذیر ناجی صاحب کے ساتھ میرا چار ملاقاتوں اور…

گوہر اعجاز اور محسن نقوی

میں یہاں گوہر اعجاز اور محسن نقوی کی کیس سٹڈیز…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے (آخری حصہ)

میاں نواز شریف کانگریس کی مثال لیں‘ یہ دنیا کی…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے

بودھ مت کے قدیم لٹریچر کے مطابق مہاتما بودھ نے…

جنرل باجوہ سے مولانا کی ملاقاتیں

میری پچھلے سال جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعدد…

گنڈا پور جیسی توپ

ہم تھوڑی دیر کے لیے جنوری 2022ء میں واپس چلے جاتے…

اب ہار مان لیں

خواجہ سعد رفیق دو نسلوں سے سیاست دان ہیں‘ ان…

خودکش حملہ آور

وہ شہری یونیورسٹی تھی اور ایم اے ماس کمیونی کیشن…

برداشت

بات بہت معمولی تھی‘ میں نے انہیں پانچ بجے کا…

کیا ضرورت تھی

میں اتفاق کرتا ہوں عدت میں نکاح کا کیس واقعی نہیں…