پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

تاج محل اللہ کی ملکیت،وقف شدہ عمارت ہے،بھارتی سنی وقف بورڈ

datetime 22  اپریل‬‮  2018 |

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کی شمالی ریاست اترپردیش کے سنی وقف بورڈ نے سپریم کورٹ میں جوابی حلف نامہ داخل کراتے ہوئے کہا ہے کہ تاج محل اللہ کی ملکیت ہے اور ان کے پاس اس کے وقف کیے جانے کی دستاویزات نہیں ہیں، تاہم یہ وقف شدہ عمارت ہے اس لیے اسے بورڈ کے حوالے کرنا چاہیے۔ سابق آرمی چیف راحیل شریف کی اداکار گوہر ممتاز و انعم گوہر کے ساتھ تصویر سامنے آگئی۔

سنی وقف بورڈ کے چیئرمین ظفر احمد فاروقی نے برطانوی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ یہ مقدمہ بہت پرانا ہے اور اب اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔ظفر احمد فاروقی کا کہنا تھا کہ ملک میں قبروں اور مساجد کو قانونی طور پر وقف کی املاک تصور کیا جاتا ہے اور اس طرح تاج محل بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ اداکار جان ریمبو نے بھی دوسری شادی کی خواہش کا اظہار کردیا انہوں نے بتایا کہ بہت پہلے عرفان بیدار نام کے ایک شخص نے عدالت سے رجوع کیا تھا اور یہ معاملہ 90 کی دہائی میں عدالت میں آیا تھا پھر بھارت کے محکمہ آثار قدیمہ (اے ایس آئی) نے اس کے خلاف سپریم کورٹ میں سنہ 2011 میں اپیل کی تھی ۔ چیف جسٹس کا لیڈی ریڈنگ اسپتال کا دورہ، مریضوں نے شکایات کے انبار لگا دئیے انہوں نے بتایا کہ تاج محل مقبرہ ہے اور وہاں شاہجہاں کا سالانہ عرس ہوتا ہے، وہاں جمعے کی نماز ہوتی ہے اور رمضان میں تراویح کی نماز ہوتی ہے ایسے میں وقف بورڈ کا اس پر حق ہونا چاہیے۔فی الحال تاج محل کا انتظام و انصرام محکمہ آثار قدیمہ کے ہاتھوں میں ہے۔ “اکیلے انضمام الحق نے فواد عالم کی ٹیسٹ ٹیم میں شمولیت کی مخالفت کی “جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا اس کا انتظام محکمہ آثار قدیمہ سے لے کر وقف کے حوالے کر دینا چاہیے تو انہوں نے کہا کہ اس کا انتظام تو محکمے کے پاس ہی رہنا چاہیے کیونکہ وہ اچھی طرح سے اس کام کو انجام دے رہے ہیں. وقف کے پاس ایسے وسائل نہیں کہ آثار قدیمہ کی اچھی طرح دیکھ بھال کر سکے، لیکن اس کا استحقاق یا تشخص بورڈ کے پاس ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست میں وقف کی اپنی ملکیت صرف دو ہیں، ایک جس میں ان کا دفتر ہے اور دوسرا پرانا دفتر اور یہ دونوں ریاستی دارالحکومت لکھنو میں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…