اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

چینی بھکاریوں نے اسمارٹ فون کے ذریعے خیرات وصول کرنا شروع کر دی

datetime 15  دسمبر‬‮  2017 |

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) چینی سڑکوں پر بھکاری اسمارٹ فون کے ذریعے خیرات وصول کر رہے ہیں اور جلدی میں بھاگتے دوڑتے لوگ انہیں بھیک بھی دے رہے ہیں۔ چینی صوبے شیندوگ کے شہر جینان میں موبائل والے بھکاریوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور یہاں سیاحوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔

یہ بھکاری اپنے کاسے کے سامنے کیو آر کوڈ لگائے بیٹھے ہیں تاکہ آپ اسے اسکین کر کے پیسوں کی لین دین کیلئے استعمال ہونے والی ایپ (علی پے، وی چیٹ والٹ) یا دیگر موبائل پلیٹ فارم سے انہیں رقم دے سکیں۔ اس کے علاوہ بھکاریوں کی بڑی تعداد کے پاس خود اپنے اسمارٹ فون بھی موجود ہیں۔چینی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں کیونکہ ذہنی طور پر معذور ایک بھکاری سے جب پوچھا گیا کہ اس نے کیو آر کوڈ کیسے بنایا تو معلوم ہوا کہ اس کے خاندان نے اس کیلئے تیار کیا ہے لیکن بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق کیو آر کوڈنگ کے ذریعے آپ کی معلومات چین کے مختلف اداروں کو بھیجی جا رہی ہیں کیونکہ بھکاری انہی کمپنیوں سے اپنی کمائی ہوئی رقم کیش کراتے ہیں۔اس طرح صارفین کا بہت وسیع ڈیٹا وی چیٹ پروفائلز (چین کے مشہور سوشل میڈیا نیٹ ورک) کی صورت میں کمپنیوں کے پاس جمع ہوتا رہتا ہے جسے بعد میں اشتہاروں اور اسپیم پیغامات کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔اگر آپ بھکاری کو کچھ نہیں دیتے لیکن کیو آر کوڈ اسکین کر لیتے ہیں تو اس کے بھی انہیں پاکستانی 10 سےبیس    روپے مل جاتے ہیں اور اگر یہ بھکاری ہفتے میں 45 گھنٹے تک بھیک مانگیں تو اس سے ماہانہ 70 ہزار روپے کی آمدنی ہوتی ہے جو چین میں ایک ہنرمند مزدور کی کم درجے کی تنخواہ کے برابر ہے۔اگرچہ بعض لوگوں کیلئے یہ ایک عجیب بات ہو گی لیکن چین بہت تیزی سے بنا نقدی کی معیشت کی جانب بڑھ رہا

ہے جہاں کیو آر کوڈز کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے خواہ تحفہ خریدنا ہو یا پھر ہوٹل میں ویٹر کو ٹپ دینی ہو امریکا کے مقابلے میں چین میں موبائل ادائیگیوں کا حجم 50 گنا سے زائد بڑھ چکا ہے اور صرف 2016 میں چین میں موبائل فون سے 112 ارب ڈالر کی ریکارڈ لین دین کی گئی تھی۔ اب چین کی معیشت کو کوڈ اکانومی کا نام دیا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…