اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

60برس سے بچھڑے پاکستانی بہن بھائی کب کہاں اور کیسے ملے ؟ رقت آمیز مناظر

datetime 4  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این این) 60سال سے بچھڑے پاکستانی بہن بھائی ایک دوسرے کو سوشل میڈیاایپ ’’ایمو ‘‘ پر دیکھتے ہی بے ہوش ہو گئے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق 60 سال قبل سورہ کی بھینٹ چڑھنے والی گورکوہی عشیرئی درہ کی رہائشی جہان سلطان نامی خاتون مقبوضہ کشمیر میں پائی گئی۔عشیرئی درہ گورکوہی کے رہائشی انعام الدین نے میڈیا کو بتایا کہ 60 سال قبل میرے دادا نے میری بہن جہان سلطان کو کم

عمری میں سورہ میں دیا تھا جسے سسرال والوں نے پنڈی میں کہیں فروخت کر دیا تھا جس کے بعد وہ لاپتہ ہو گئی۔انعام الدین کا کہنا تھا کہ بہن سے ملنے کے لیے ملک کاکونا کونا چھان مارا لیکن کوئی معلومات نہیں ملیں تو ہم نے سوچا شاید وہ وفات پا چکی ہے ۔8 جنوری کوضیا نامی نوجوان نے فیس بک پر پوسٹ جاری کی جس میں عشیرئی درہ گور کو ہی سے اپنا تعلق اور ہم کو ماموں بتانے کا ذکر کیا تھا جس کے بعد تیمرگرہ کے رحیم الدین اور اکرام نے معلومات کے بعد رابطہ کیا۔ 60 سال بعد سوشل میڈیا ایپ ’’ایمو ‘‘پر پر ملاقات ہوئی تو دونوں بہن بھائی بیہوش ہو گئے اور اب سفارتی سطح پران سے ملنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…