منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

گاڑیوں کو چومنے کا مقابلہ، مسلسل 50 گھنٹے تک گاڑی سے بوس و کنار کرنیوالی خاتون کار جیت گئی

datetime 22  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا میں عجیب وغریب مقابلے ہوتے رہتے ہیں اور ان میں کامیاب ہونے والے بہت خوش نصیب ہوتے ہیں۔سرعام بوس و کنار کو معیوب سمجھاجاتاہے لیکن یہ بوس وکنار کسی ٹھوس چیز کیساتھ ہوتو اس کا اندازہ صرف دیکھنے والے ہی لگاسکتے ہیں لیکن امریکی ریاست ٹیکساس میں گاڑیوں کو چومنے کے اس دلچسپ مقابلے میں مسلسل 50 گھنٹے کار چومنے والے والے کو ایک کارانعا م میں دینے کا اعلان کیاگیاتھااور یہ مقابلہ ایک خاتون جیت گئی۔

مقابلے کو ایک مقامی96.7 ایف ایم ریڈیو نے منعقد کیا تھا جس میں کمپنی نے اپنی نئی نویلی گاڑی ’’کیا آپٹما ایل ایکس 2017‘‘ بطور انعام رکھی تھی، صبح آٹھ بجے شروع ہونیوالے مقابلے میں ہر امیدوار کو ہرگھنٹے 10منٹ کی بریک کیساتھ اپنے ہونٹ گاڑی سے چپکائے رکھنے تھے ،امیدوار 10 منٹ کے وقفے میں غسل خانے جانے، کچھ کھا یا پانی پی سکتے تھے ،اس کے بعد دوبارہ ان کے ہونٹ کار سے لگنے چاہیے تھے ورنہ وہ مقابلے سے باہر کیے جاسکتے تھے۔ مقابلہ شروع ہوتے ہی قریباً 20 افراد نے اپنے ہونٹ کار سے چپکادیئے اور سب کار پر زیادہ سے زیادہ وقت گزار کر کار جیتنا چاہتے تھے ، اگر ایک سے زائد افراد 50 گھنٹے سے زیادہ وقت تک کار چومتے رہتے ہیں تو پھر فیصلہ قرعہ اندازی کے ذریعے ہونا تھا اور بالآخر گاڑی کا قرعہ ایک خاتون امیدوار کے نام نکلا۔مقابلے میں شریک بعض افراد کے ہونٹ سوکھنے لگے اور وہ رضاکارانہ طورپر پیچھے ہٹ گئے لیکن 21 سالہ لڑکی نے کہا کہ اس کے منہ میں چھالے پڑچکے ہیں جب کہ بعض کے ناک سرخ ہوگئے اور کچھ کی گردن اکڑ کر رہ گئی۔وقت گزارنے کے لیے بعض شرکا نے ہیڈفون پر موسیقی سنی اور آنکھیں بند کرکے کار سے اپنے ہونٹ چپکائے رکھے۔ آخرکار 50 گھنٹے مکمل ہوگئے اور 7 شرکا میدان میں ڈٹے تھے۔ اس کے بعد کمپنی نے مقابلے کا خاتمے اور قرعہ اندازی کا اعلان کیا۔قرعہ اندازی میں کار کا تحفہ 30 سالہ خاتون کے نام نکلا ۔

 

news-1492768605-6988

 

news-1492768605-3229

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…