اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

چاند کا ٹکڑا برائے فروخت

datetime 11  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ہمارے ہاں چاند کا ٹکڑا بطور محاورہ استعمال ہوتا ہے لیکن حقیقت میں ایک چاند کا ٹکڑا اب نیلام کے لیے پیش کیا جارہا ہے اور توقع ہے کہ اس کی قیمت 60 ہزار پونڈ تک جاپہنچے گی جو پاکستانی روپوں میں 77 لاکھ 80 ہزار روپے ہے۔چاند کا یہ ٹکڑا صرف ساڑھے چار انچ (11 سینٹی میٹر) لمبا اور پونے پانچ انچ چوڑا (12 سینٹی میٹر) چوڑا ہے۔ یہ دنیا کے مشہور ریگستان صحارا سے ملا ہے۔ اس کی

خاص بات یہ ہے کہ یہ ٹکڑا چاند پر شہابِ ثاقب ٹکرانے سے الگ ہوا تھا اور خلا میں بھٹک گیا لیکن پھر زمین کے مدار میں رہا اور لاکھوں کروڑوں سال وہاں رہنے کے بعد ریگستان میں جاگرا۔ اس کے کنارے نوکدار ہیں اور یہ 2014 میں مراکش سے دریافت ہوا تھا۔سائنسدانوں نے اپالو مشن میں زمین پر لائے جانے والے چاند کے پتھروں سے اس کا موازنہ کیا ہے۔ انہیں قمری شہابیہ (لونر میٹیورائٹس) کہا جاتا ہے اور یہ بہت ہی نایاب ہوتے ہیں کیونکہ ان کی 0.1 فیصد مقدار ہی زمین تک ا?پہنچتی ہے۔اس کی ایک اور خاص بات قدرتی سوراخ کا ہونا بھی ہے جو تصویر میں سرخ فیتے سے ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ سوراخ اس وقت وجود پذیر ہوا جب یہ پتھر زمینی فضا میں داخل ہوا تھا۔ اس کے اوپر باقی دو سوراخ سائنسدانوں نے بنائے ہیں۔اس پتھر کو کرسٹی نیلام گھر کے ذریعے 27 اپریل کو فروخت کیا جائے گا اور توقع ہے کہ یہ 77 لاکھ 80 ہزار روپے کی خطیر رقم میں بک جائے گا۔ کرسٹی میں شعبہ سائنس کے سربراہ کا کہنا ہیکہ یہ خوش قسمتی ہے کہ پتھر سمندر، جنگل اور کسی اور جگہ گم ہونے کی بجائے ریگستان میں گرا اور ہاتھ لگ گیا۔ اس کے تمام ٹیسٹ سے ثابت ہے کہ یہ چاند سے ہی تعلق رکھتا ہے اور یہی اس کی زبردست قیمت کی وجہ بھی ہے۔ اس سے قبل 2012 میں چار پونڈ وزنی چاند کا ٹکڑا ڈھائی کروڑ روپے میں فروخت ہوا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…