اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

’’کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ پاکستانی بچہ کون ہے ‘‘ دن کے 24گھنٹوں میں سے 20گھنٹے اسے نیلی روشنی میں کیوں رکھا جاتا ہے ؟ حیران کن انکشاف ‎

datetime 29  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )بچپن میں آپ نے دیو مالائی کہانیاں تو ضرور پڑھی ہوں گی جن میں کسی جن یا دیو کی جان کسی طوطے میںہوتی ہے مگر آپ یہ جان کرحیران رہ جائیں گے کہبرطانیہ میں ایک چار سالہ بچہ اسماعیل بھی ہےجس کی جان نیلے بلبوں سے پھوٹنےوالی

روشنی میں قید ہے۔اپنی پیدائش سے چند ہفتے بعد ہی اسماعیل ایک پراسرار بیماری جسے’’کریگلر نجر سنڈروم ‘‘ میں مبتلا ہو گیا تھا ۔اس بیماری کے اب تک پوریدنیا میں صرف 100مریض رپورٹ ہوئے ہیں ۔ کریگلر نجر سند روم دراصل جگر کی بیماری ہے جس میں جگر خون کے سرخ خلیات جو اپنی عمر پوری کر چکے ہوتے ہیںان کو تلف کرنے کے بجائے زہرمیں تبدیل کر دیتا ہے اور اس کا واحد حل یہ نیلی رنگ کی روشنیاں ہیںجن میں مریض کو اس وقت تک رہنا پڑتا ہے جب تک یہ روشنیاں جگر میں بننے والے زہریلے مرکبات کو زائل نہ کر دیں۔ اسماعیل کو بھی دن کے 24میں سے 20گھنٹے ان نیلی روشنیوں میں رہنا پڑتا ہے جو اس کے کمرے میں محکمے این ایچ ایس نے اس کی جان بچانے کیلئے نصب کر رکھی ہیں۔ اس بیماری کا دوسرا علاج جگر کی منتقلی بھی ہے مگر اسماعیل کی والدہ شازیہ چوہدری کو خدشہ ہے کہ دوران آپریشن ان کے بیٹے کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے وہ آپریشن کی اجازت نہیں دے رہیں۔مگر اسماعیل کی والدہ شازیہ چوہدری کو خدشہ ہے کہ دوران آپریشن ان کے بیٹے کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے وہ آپریشن کی اجازت نہیں دے رہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…