اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

دو سر والے سانپ نے انٹرنیٹ پر دہشت پھیلادی

datetime 28  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سانتا فے نامی شہر میں ایک حیرت انگیز واقعہ پیش آیا کہ جب ایک خاتون اپنے گھر کے باغ میں ’’2 سر‘‘ والے سانپ کو دیکھ کراوسان کھو بیٹھی۔

تفصیلات کے مطابق ارجنٹینا کی شہری خاتون لوجین ایرولیس اس وقت ایک مشکل مرحلے سے گزریں جب ایک عجیب الخلقت سانپ ان کے گارڈن میں نکل آیا۔ سانپ نے خاتون کو نہ صرف خوفزدہ کردیا وہ تذبذت کیفیت کا شکار بھی ہوگئیں کہ پہچان بھی پارہی ہیں نہیں بھی۔چھالیس سالہ لوجین کے مطابق 2 سروں والا یہ عجیب وغریب سانپ چارانچ‘ اور 10 سینٹی میٹرلمبا تھا، اس کی کھال بظاہر سانپ جیسی نظر آرہی تھی‘ وہ اسے دیکھ کرایک دم حواس باختہ ہوگئیں اورارد گرد موجود لوگوں کو شورمچا کر اپنی جانب متوجہ کرلیا۔ خاتون کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سے پہلے کبھی انہوں نے اس طرح کا کوئی سانپ نہیں دیکھا، خوفناک سانپ کی آنکھیں بہت ہی بھیانک تھیں اوروہ بارباراپنی آں کھوں کو جھپک رہا تھا۔لوجین نے اپنے کھوئے ہوئے حواس بحال کرتے ہوئے ادھر ادھر نظر دوڑائی اور سانپ کو مار ڈالا، ایرولیس اور ان کے دوست احباب کے مطابق اس طرح کا سانپ انہوں نے اکثر فلموں میں دیکھا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…