اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

بیوی کی نئے جوتوں کی فرمائش سے تنگ شوہر ایسی کیا چیز گھر لے آیا جو دیکھے ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو جائے

datetime 28  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عورتوں کو سمجھنا جتنا مشکل ہے اتنا ہی مشکل انکی خواہشوں کو پورا کرنا ہے ۔ایسا ہی ایک واقعہ برطانیہ میں پیش آیا ۔ ایک خاتون آئے دن اپنے شوہر

سے نئے جوتوں کی فرمائش کرتی رہتی تھی۔ شوہر نے ایک دن روزروز کی فرمائشوں سے تنگ آ کر ایسی چیز لا کر گھر کے باغیچے میں رکھ دی کہ جان کر آپ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو جائیں گے۔۔یہ شخص جوتوں کے متعلق اپنی بیوی کے جنون سے تنگ آ کر بہت بڑے سائز کا جوتوں کا ایک جوڑا لے آیا اور لا کر گھر کے باہر باغیچے میں رکھ دیاکیونکہ گھر کے اندر تو وہ لیجایانہیں جاسکتا تھا۔رپورٹ کے مطابق 50سالہ اینڈی واکر خاص طور پر بنوا کر جو جوتے لایا ان کا سائز 14فٹ ہے۔ ان کی ایڑیاں اتنی بڑی ہیں کہ جوتوں کا ایڑی والا حصہ گھر کی چھت کے برابر پہنچا ہوا ہے۔ اینڈی کا کہنا ہے کہ ’’میری بیوی ہر وقت مجھے نئے جوتے دلانے کو کہتی رہتی تھی۔ میں یہ جوتے خرید کر لے آیا ہوں۔ میرے خیال ہے کہ شاید اتنے بڑے جوتے لینے کے بعد اب اس کا یہ جنون ختم ہو جائیگا۔اینڈی نے یہ جوتے 500پاؤنڈ (تقریباً ساڑھے 6ہزار روپے)میں بنوائے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…