اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

شہر کا پتا پوچھنے کے لیے ہیلی کاپٹر میں سوار پائلٹ کی ایسی حرکت جس نے سب کو حیران کر دیا

datetime 18  فروری‬‮  2017 |

آستانہ(این این آئی)اگر ہم میں سے کوئی راستہ بھول جائے یا منزل کا پتا نہ چل رہا ہو تو کسی واقف حال شخص سے معلوم کرتے ہیں۔ ایسا ہونا معمول کی بات ہے مگر کسی ہیلی کاپٹر کا پائلٹ راستہ بھول جائے اور ہیلی کاپٹر کو زمین پر اتار کراپنی منزل کا پتا پوچھے تو یہ بات بلا شبہ حیران کن ہوگی۔میڈیارپورٹس کے مطابق وسطی ایشیائی ریاست قزاقستان کے ایک ہیلی کاپٹر کی فوٹیج بہت مقبول ہوئی ہے۔ آپ یہ جان کر حیران رہیں گے کہ ایک فوجی ہیلی کاپٹر کے پائلٹ نے قریب ترین شہر کا

 

پتا معلوم کرنے کے لیے اپنا ہیلی کاپٹر ایک مصروف شاہراہ پر اتار دیا۔ہیلی کاپٹر اتارنے کے بعد کپتان نے سڑک پر رکنے والی ایک گاڑی کے ڈرائیور سے پوچھا کہ یہ کون سی جگہ ہے اور اس کے قریب تریب کون سا شہر ہے۔ویڈیو میں آپ ہیلی کاپٹر کو سڑک پر لینڈ کیے دیکھنے کے ساتھ پائلٹ کو ایک ٹرک ڈرائیور سے بات کرتے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ پتا معلوم کرنے کے بعد ہیلی کاپٹر دوبارہ محو پرواز ہو گیا۔ اس واقعے کی ویڈیو کسی عینی شاہد نے اپنے موبائل کیمرے میں بنائی اور اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…