اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

وہ لڑکی جس کی آواز دنیا و مافیا سے بے گانہ کر دیتی ہے۔۔۔ویڈیوز نے تہلکہ مچا دیا

datetime 13  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)دلفریب موسیقی یا کسی لطیف شے کا لمس پورا جسم کوایک اطمینان و فرحت کے احساس میں ڈبو دیتا ہے۔یہ کیفیت وہی بیان کر سکتا ہےجو اس تجربے سے گزر چکا ہے۔ماہرین نے دوسروں کو آواز، لمس یا موسیقی سے مدہوش کردینے کے علم کو Autonomous Sensory Meridian Responseکا نام دیا ہے۔

اس فن کے ماہر مختلف طریقوں سے لوگوں میں وہی جھرجھری پیدا کرکے انہیں راحت کا احساس دلاتے ہیں۔تاہم ایک لڑکی نے اس فن کے ماہرین کو حیران کر رکھا کہ کیونکہ یہ کام صرف اپنی مدھر سرگوشیوں سے ہی کر لیتی ہے ۔اس لڑکی کی سیلفی نے دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین کو انجانے خوف میں مبتلا کردیا، رپورٹ کے مطابق اس لڑکی کا نام گریس ہے جو حادثاتی طور پر ASMRکی ماہر بن گئی ہے۔ وہ یوٹیوب پر ویڈیو پوسٹ کرتی ہیں جن میں وہ سرگوشیوں میں ہسپانوی شاعری پڑھتی ہے۔ اس دوران وہ مائیکروفونز کی تبدیلی اور لہجے کے تغیر سے کچھ اس طرح کی آواز پیدا کرتی ہے کہ سننے والے کے سر کی جلد میں جھرجھری پیدا ہوتی ہے ، جس کی لہر ان کی گردن کی پچھلے حصے سے ہوتی ہوئی ریڑھ کی ہڈی میں اتر جاتی ہے اور وہ شادمانی محسوس کرنے لگتے ہیں۔امریکی ریاست ٹیکساس کی رہائشی گریس کے یوٹیوب چینل کو اب تک ہزاروں لوگ سبسکرائب کر چکے ہیں۔ اس کی ویڈیوز دیکھنے والےکئی صارفین کا کہنا ہے کہ گریس کوئی شیطانی منتر پڑھتی ہے جو سننے والوں کومدہوش اور شادمان کر دیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…