منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

ترکی میں مرمت کے دیوران حیرت انگیز دریافت ، ایسی چیزوں کی برآمد کہ آپ بھی دنگ رہ جائیں۔

datetime 19  دسمبر‬‮  2016 |

انقرہ (نیوز ڈیسک) 1963 ء میں ترکی میں ایک شخص اپنے گھر کی تعمیر و مرمت کا کام کروا رہا تھا، جب اس نے گھر کے تہہ خانے کی ایک دیوار گرا کر وہاں نئی دیوار کے لیے کھدائی شروع کی تو نیچے ایک سرنگ نکل آئی جسے دیکھ کر وہ دنگ رہ گیا۔ ماہرین آثار تب سے اس سرنگ کی کھدائی کر رہے تھے اور اب سرنگ سے آگے ایک ایسی چیز دریافت ہو چکی ہے جس نے پوری دنیا کو ششدر کر دیا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق اس شخص کے گھر کے نیچے ایک 18 منزلہ قدیم شہر موجود ہے جس میں 20 ہزار سے زائد لوگوں کے رہنے کی گنجائش ہے۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق یہ حیران کن دریافت ترکی علاقے کیپا ڈوسیا میں ہوئی ہے۔ جب اس شخص نے اپنے گھر کے تہہ خانے میں نمودار ہونے والی سرنگ میں کھدائی کی تو وہ آگے ایک خفیہ کمرے میں جا کر کھلی اور پھر اس سے آگے کئی کمرے اور پھر اب جا کر پورا شہر دریافت کیا جا چکا ہے ۔ ماہرین کے مطابق اس زیر زمین شہر میں 20 ہزار کے لگ بھگ لوگ رہائش پذیر تھے اور ان کے جانور اور کھانے پینے کا مکمل سامان بھی اس 18 منزلہ شہر میں وافر موجود ہوتا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ” یہ شہر 780 ء سے 1180ء کے درمیان باز نطینی سلطنت کے عہد میں بسایا گیا جس میں کئی کچن، چرچ، مقبرے، سکول، کمیونل رومزو دیگر عمارات ہیں۔ ممکنہ طور پر یہ شہر بانطینی سلطنت کی عربوں کے ساتھ جنگوں میں محفوظ رہنے یا قدرتی آفات سے بچنے کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس شہر کے 600 داخلی و خارجی راستے ہیں۔
ان راستوں پر بھاری پتھروں کے دروازے ہیں جو بیرونی حملہ آوروں کے حملے کی صورت میں بند کر دیئے جاتے تھے تاکہ وہ اندر داخل نہ ہو سکیں۔ شہر کی منزل کے الگ الگ داخلی و خارجی راستے بنائے گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس شہر کا نام ڈیرینکیو (Derinkuyu) تھا جو تاحال آدھا ہی کھودا جا سکا ہے۔ باقی آدھے شہر تک ابھی تک رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔

innovation-in-turkey
turkey-1turkey-2

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…