اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

پاسپورٹ برائے فروخت

datetime 18  دسمبر‬‮  2016 |

باستیرے (نیوز ڈیسک) دنیا کے بدلتے ہوئے سیاسی اور معاشی حالات کی وجہ سے کسی بھی ملک کی شہریت کا حصول بہت مشکل کام بن چکا ہے لیکن جنوبی امریکہ اور یورپ کے کچھ ممالک ایسے بھی ہیں کہ جو اپنی شہریت بیچ رہے ہیں اور ان ممالک میں سے کسی ایک کی شہریت خریدنے والے تقریباً 80 ممالک کا سفر بغیر ویزے کے کرسکتے ہیں۔ کریبین سمندر میں واقع چھوٹے سے ملک سینٹ کٹس نے پہلی دفعہ 1984ءمیں شہریت بیچنے کی روایت ڈالی۔ جو کہ اب بھی جاری ہے اس ملک کی جانب سے جاری کئے جانیوالے پاسپورٹ کی میعاد دس سال ہے جس کو بعد ازاں توسیع دی جاسکتی ہے جبکہ اس کا پراسیسنگ ٹائم تقریباً آٹھ سے دس ماہ ہے۔اس ملک کے پاسپورٹ کے حامل سوئٹزر لینڈ، برطانیہ آئر لینڈ سمیت 80سے زیادہ ممالک کا ویزہ فری سفر کرسکتے ہیں۔سوئٹزرلینڈ کے مشہور قانون دان کرسٹین کالن نے اس ملک کے لئے ایک اچھوتا پروگرام ڈیزائن کیا جس کے تحت اس کی شہریت 250,000ڈالر (تقریباً اڑھائی کروڑ پاکستانی روپے) میں فروخت کی جاتی ہے اور یہ شہریت حاصل کرنے والا تقریباً 132 ممالک کا سفر بغیر ویزے کے کرنے کا حق رکھتا ہے۔ کرسٹین کالن شہریت کے فروخت کے ایسے ہی پروگرام اینٹی گوا، باربودا، مالٹا اور کئی یورپی یونین ممالک کے لئے بھی ترتیب دے چکے ہیں۔ البانیہ، کروشیا، جمیکا، مانٹینیگرواورسلووینیا بھی رقم کے عوض شہریت بیچنے کے پروگرام متعارف کروانے پر غور و فکر کررہے ہیں۔ سینٹ کٹس کے کے ویزہ،شہریت و فوائد کے بارے میں مزید معلومات Google پر ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…