منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

خانہ بدوش دلہن کی شاد ی کا حیران کن لباس ۔۔۔ یہ خبر پڑھ کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

datetime 4  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)یورپ کے ایک چھوٹے سے ملک سلوواکیہ میں ایک خانہ بدوش خاندان نے 19 سالہ لڑکی کی شادی تو سادگی سے کی لیکن اس کے لباس پر 2 کروڑ 35 لاکھ روپے سے زائد رقم خرچ کی گئی۔4 روز تک چلنے والی اس شادی میں دلہن کے کپڑوں پر یورو کرنسی کے سب سے بڑے نوٹ بھی چپکائے گئے تھے اور سونے کے بڑے بڑے گہنے اور زیورات پہنائے گئے تھے۔ 19 سالہ دلہن کو غیرمعمولی طور پر بڑی سونے کی انگوٹھی پہنائی گئی تھی جب کہ پورے لباس کو سونے کے تاروں سے سجایا گیا تھا۔پوری شادی پرلباس کے مقابلے میں قدرے بہت کم رقم خرچ کی گئی ہے جو پاکستانی 40 لاکھ روپے کے برابر ہے۔ یہ لوگ سلوواکیہ میں رہنے والے وہ خانہ بدوش ہیں جن کا اصل ملک رومانیہ ہے اور اب بھی اس ملک میں ایک لاکھ سے زائد رومانیہ کے پاشندے رہتے ہیں۔تقریب میں دلہن جگہ جگہ اپنے نوٹوں کو گنتے ہوئے نظر آئیں اور بیروں اور موسیقاروں کو سیکڑوں ڈالر کی ٹپ دی گئی ہے۔
دوسری جانب مسلمان اکثریتی ملک مصر میں ہر چار منٹ بعد ایک طلاق واقع ہونے کا انکشاف ہوا ہے مصر کے پبلک موبلائزیشن وادارہ شماریات کے زیر اہتمام ایجنسی کی طرف سے جاری کرد ہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ 20 برسوں کے دوران مصر میں طلاق کے رحجان میں غیرمعمولی حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے رپورٹ کے مطابق ناخواندہ میاں بیوی میں طلاق کے واقعات خواندہ افراد کی نسبت زیادہ ہیں۔ اسی طرح دیہاتوں میں طلاق کا رحجان شہروں کی نسبت کم ہے۔ پچھلے بیس برسوں کے دوران طلاق کے واقعات میں اتار وچڑھاؤ بھی آتا رہاہے۔ سنہ 1996 سے 1999 کے دوران طلاق کی شرح فی ہزار 1.2 فی صد رہی۔ سنہ 2000 میں کم ہو کر فی ہزار 1.1 پر آگئی۔سنہ 2015 میں طلاق کی شرح سنہ 1996 کی نسبت 83 فی صد اضافے کے ساتھ 2.2 فی ہزار تک جا پہنچی۔ اس طرح ایک سال میں طلاق کے 2 لاکھ واقعات رونما ہوئے۔ ایک گھنٹے میں 22.6 طلاقیں اور 3.8 سیکنڈ میں ایک طلاق واقع ہوتی رہی۔مصرمیں زوجین کے درمیان طلاق کے اسباب پر بات کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ گھریلو تشدد، میاں بیوی میں سے کسی ایک کی بددیانتی، جسمانی ایذا رسانی، گھر کے دیگر افراد اور عزیزو اقارب کا میاں بیوی کے معاملات میں مداخلت کرنا، ناتجربہ کاری، عمروں میں غیرمعمولی فرق جیسے عوامل زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ مردوں میں 20 سے 34 سال کی عمر کے افراد طلاق کی شرح 49.7 فی صد ہے۔جب کہ بیس سے کم عمر کے افراد میں یہ تناسب 0.4 فی صد ہے۔ 35 سے 49 اور 50 سے 64 سال کی عمر کے افراد میں طلاق کی شرح .50 فی صد ہے۔خواتین میں 20 سے 34 سال کے عمر کی طلاق کی شرح 6.7 فی صد جب کہ 65 سال کی عمر میں شرح طلاق 0.6 فی صد ہے۔پڑھے لکھے نوجوانوں میں طلاق کی شرح 40 فی صد اور تعلیم یافتہ لڑکیوں میں طلاق کی شرح 34 فی صد ہے۔ طلاق دینے والوں میں گریجویٹ، ماسٹر ڈگری کے حامل اور پی ایچ ڈی تک اعلیٰ تعلیم پانے والے سبھی شامل ہیں۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…