ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

مرد پارٹنر کو دھوکہ کیوں دیتے ہیں ؟

datetime 18  ستمبر‬‮  2016 |
Conceptual photo of a marital infidelity

اسلام آباد (نیو ز ڈیسک )شادی شدہ زندگی میں کسی ایک فریق کی جانب سے دھوکہ دینا شادی کے بندھن کو کمزور کر ڈالتا ہے۔ اس دھوکے کا معلوم ہوتے ہی ازدواجی خوشیاں کافور ہوجاتی ہیں اور محض اختلافات، بدگمانیاں ہی بچ رہتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ اگر دونوں کے بیچ تعلقات دوبارہ پرانی سطح پر آبھی جائیں تو بھی یہ خطرہ ہمیشہ ہی ساتھی کو لگا رہتا ہے کہ کہیں دوبارہ سے دھوکہ نہ ہو اور دوسرا پارٹنر اس خوف کا شکار رہتا ہے کہ کہیں ساتھی بدلہ لینے کی خاطر دھوکہ نہ دے ڈالے۔ کسی ایک شخص کے ساتھ تعلق کے باوجود بھی کسی دوسرے تعلق کے قیام کا خیال مردوں کے ذہن میں کہاں سے آتا ہے، اس بارے میں متعدد آرا موجود ہیں۔ خواتین اسے مردوں کی رنگین مزاجی کا نتیجہ قرار دے کے صبر کر لیتی ہیں تاہم تازہ ترین تحقیق کی روشنی میں امکان ہے کہ اب مردوں کی بے وفائی کی صورت میں دنیا مردوں کے بجائے خود خواتین کو ہی قصوروار ٹھہرائے گی۔ دراصل اس تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جذباتی ناآسودگی وہ جذبہ ہوتا ہے جو مردوں کو دھوکہ دینے پر مجبور کردیتا ہے اور رشتوں کی اکثریت اس جذباتی آسودگی سے محروم ہوتی ہے۔

مزید پڑھیے:بلیوں نے بھی وگز پہنناشروع کر دیں

مذکورہ تحقیق کا اہتمام ڈاکٹر ایم گیری نیومین نے کیا ہے۔ ڈاکٹر گیری سائیکوتھراپسٹ ہیں اور ” دی ٹرتھ اباو¿ٹ چیٹنگ“ نامی کتاب کے مصنف بھی ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے ایک تحقیق کی ہے جس میں انہوں نے 200ایسے مردوں کا انتخاب کیا جو خود یہ دعویٰ کرچکے تھے کہ انہوں نے اپنی پارٹنر کو دھوکہ دیا۔ اس تحقیق میں ڈاکٹر صاحب نے ان مردوں سے مختلف نوعیت کے سوالات کئے جن کا مقصد یہ جاننا تھا کہ انہوں نے اپنی موجودہ پارٹنر سے بے وفائی کیوں کی۔ ان مردوں میں سے 28فیصد کا کہنا تھا کہ وہ جذباتی طور پر ناآسودہ تھے، تعریف اور سراہے جانے کے خواہشمند تھے اور اپنے رشتے میں ان پہلوو¿ں کی کمی کی وجہ سے وہ دھوکہ دینے پر مجبور ہوگئے۔ ڈاکٹر گیری کا کہنا تھا کہ خواتین ہی نہیں بلکہ مردوں کیلئے بھی جذباتی آسودگی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ مردوں کے لئے محض جنسی تسکین ہی سب کچھ نہیں ہوتی جیسا کہ عام مفروضہ ہے بلکہ انہیں بھی سراہے جانے، خیال رکھے جانے کا احساس درکار ہوتا اور جب اپنے بندھن میں انہیں یہ نہیں ملتا ہے تو وہ دھوکہ دیتے ہیں۔ ان مردوں میں سے 40فیصد نے دھوکہ دینے کیلئے کسی اور کا نہیں بلکہ اپنی ہی ساتھی کولیگز کا انتخاب کیا۔۔88فیصد کا کہنا تھا کہ انہوں نے جس کی خاطر دھوکہ دیا، وہ جسمانی طور پر ان کی موجودہ پارٹنر سے کم پرکشش تھی۔77فیصد ایسے تھے جن کے دوستوں میں بھی دھوکہ دینے والے شامل تھے۔68فیصد کا کہنا تھا کہ وہ دھوکہ دینے پر شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…