منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

مرد پارٹنر کو دھوکہ کیوں دیتے ہیں ؟

datetime 18  ستمبر‬‮  2016 |
Conceptual photo of a marital infidelity

اسلام آباد (نیو ز ڈیسک )شادی شدہ زندگی میں کسی ایک فریق کی جانب سے دھوکہ دینا شادی کے بندھن کو کمزور کر ڈالتا ہے۔ اس دھوکے کا معلوم ہوتے ہی ازدواجی خوشیاں کافور ہوجاتی ہیں اور محض اختلافات، بدگمانیاں ہی بچ رہتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ اگر دونوں کے بیچ تعلقات دوبارہ پرانی سطح پر آبھی جائیں تو بھی یہ خطرہ ہمیشہ ہی ساتھی کو لگا رہتا ہے کہ کہیں دوبارہ سے دھوکہ نہ ہو اور دوسرا پارٹنر اس خوف کا شکار رہتا ہے کہ کہیں ساتھی بدلہ لینے کی خاطر دھوکہ نہ دے ڈالے۔ کسی ایک شخص کے ساتھ تعلق کے باوجود بھی کسی دوسرے تعلق کے قیام کا خیال مردوں کے ذہن میں کہاں سے آتا ہے، اس بارے میں متعدد آرا موجود ہیں۔ خواتین اسے مردوں کی رنگین مزاجی کا نتیجہ قرار دے کے صبر کر لیتی ہیں تاہم تازہ ترین تحقیق کی روشنی میں امکان ہے کہ اب مردوں کی بے وفائی کی صورت میں دنیا مردوں کے بجائے خود خواتین کو ہی قصوروار ٹھہرائے گی۔ دراصل اس تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جذباتی ناآسودگی وہ جذبہ ہوتا ہے جو مردوں کو دھوکہ دینے پر مجبور کردیتا ہے اور رشتوں کی اکثریت اس جذباتی آسودگی سے محروم ہوتی ہے۔

مزید پڑھیے:بلیوں نے بھی وگز پہنناشروع کر دیں

مذکورہ تحقیق کا اہتمام ڈاکٹر ایم گیری نیومین نے کیا ہے۔ ڈاکٹر گیری سائیکوتھراپسٹ ہیں اور ” دی ٹرتھ اباو¿ٹ چیٹنگ“ نامی کتاب کے مصنف بھی ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے ایک تحقیق کی ہے جس میں انہوں نے 200ایسے مردوں کا انتخاب کیا جو خود یہ دعویٰ کرچکے تھے کہ انہوں نے اپنی پارٹنر کو دھوکہ دیا۔ اس تحقیق میں ڈاکٹر صاحب نے ان مردوں سے مختلف نوعیت کے سوالات کئے جن کا مقصد یہ جاننا تھا کہ انہوں نے اپنی موجودہ پارٹنر سے بے وفائی کیوں کی۔ ان مردوں میں سے 28فیصد کا کہنا تھا کہ وہ جذباتی طور پر ناآسودہ تھے، تعریف اور سراہے جانے کے خواہشمند تھے اور اپنے رشتے میں ان پہلوو¿ں کی کمی کی وجہ سے وہ دھوکہ دینے پر مجبور ہوگئے۔ ڈاکٹر گیری کا کہنا تھا کہ خواتین ہی نہیں بلکہ مردوں کیلئے بھی جذباتی آسودگی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ مردوں کے لئے محض جنسی تسکین ہی سب کچھ نہیں ہوتی جیسا کہ عام مفروضہ ہے بلکہ انہیں بھی سراہے جانے، خیال رکھے جانے کا احساس درکار ہوتا اور جب اپنے بندھن میں انہیں یہ نہیں ملتا ہے تو وہ دھوکہ دیتے ہیں۔ ان مردوں میں سے 40فیصد نے دھوکہ دینے کیلئے کسی اور کا نہیں بلکہ اپنی ہی ساتھی کولیگز کا انتخاب کیا۔۔88فیصد کا کہنا تھا کہ انہوں نے جس کی خاطر دھوکہ دیا، وہ جسمانی طور پر ان کی موجودہ پارٹنر سے کم پرکشش تھی۔77فیصد ایسے تھے جن کے دوستوں میں بھی دھوکہ دینے والے شامل تھے۔68فیصد کا کہنا تھا کہ وہ دھوکہ دینے پر شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…