ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

میں نے3راتیں مچھلی کے پیٹ میں گزاریں، ایک ماہی گیر کا انوکھا واقعہ

datetime 16  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سپین کے ایک ماہی جس کے بارے میں خیال کیا جارہا تھاکہ وہ گزشتہ ماہ سپین کے ساحل پر آنے والے سمندر ی طوفان میں ڈوب چکا ہے ،اب معجزاتی طورپر کئی روز بعد دوبارہ ظاہر ہوگیاہے۔ایک برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق سپین کی کوسٹ گارڈ کے کئی روز تک سمندر میں تلاش کرنے کے بعد جب 56سالہ ماہی گیر کا کوئی نام و نشان نہیں ملا تو یہ یقین ہوگیا کہ وہ سمندری مخلوق کی خوراک بن چکاہے۔
جمعہ کو ماہی گیر کی اہلیہ پینی لوٹ مارکوئیزنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایک سچا معجزہ ہواہے۔اللہ نے ہماری دعا سن لی ہے۔پینی نے خوشی کے آنسو بہاتے ہوئے کہاکہ میں دن رات اللہ سے دعائیںمانگتی رہی اور میں نے کبھی عقیدہ نہیں چھوڑا ،مجھے پختہ یقین تھا کہ اللہ ضرور میری سنے گا ،اللہ نے میری سن لی اور لوئیگی واپس گھر آگیا۔ماہی گیر نے دعویٰ کیاہے کہ طوفان کی صبح وہیل نے مجھے نگل لیا، اسے ایک وہیل مچھلی نے نگل لیا تھا ، وہ تین دن اور تین راتیںوہیل کے پیٹ میں رہا ،میں ایک انتہائی خوفزدہ کرنے والی چیز میں رہا۔ہر طرف سیاہ اندھیرا جبکہ میں سردی سے ٹھٹھررہا تھا۔اس کا کہنا تھا کہ میں کچی مچھلی کھا کراور واٹر پروف لائٹ کے سہارے پیٹ میں زندہ رہا۔لوئیگی کا کہنا تھا کہ پیٹ میں انتہائی بدبو تھی ،میرے مسلسل تین روز تک نہانے کے بعد بد بو دور ہوئی ہے۔ماہی گیر کا کہنا ہے کہ اسے 72گھنٹوں بعد مچھلی نے اگل دیا۔یونیورسٹی آف سین پیٹرینا کے ماہرسمندری حیاتیات جوان کرسٹوبل مائیگوئل کا کہناہے کہ اس طرح کی کہانی بنی نوع انسان کی تاریخ میں پہلی بار سامنے نہیں آئی بلکہ گزشتہ سال دو ساحل پرتگال کے دو غوطہ خوروں کو بلیو وہیل نے نگل لیا تھا۔خوشی قسمتی سے عظیم الجثہ ممالیہ کے جسم سے فوری باہر اگل دیا تھا۔انہوں نے کہاکہ اتنے روز تک زندہ رہنا اس ماہی گیر کی خوش قسمتی کو ظاہر کرتاہے۔ماہرین کا کہناہے کہ بلیو وہیل کو سب سے بڑا سمندری جانور تصور کیاجاتاہے۔یہ مچھلی چار کروڑ کرل روزانہ کھاتی ہے تاہم انسانوں کو اس سے کوئی خطرہ لاحق نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…