ہفتہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2026 

دس کروڑ برس پرانے پرندے دریافت

datetime 12  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/ محمد نعیم)سائنس دانوں نے انکشاف کیا تھا کہ بڑے گوشت خور ڈائنوسار گذشتہ پانچ کروڑ برسوں میں سکڑ سکڑ کر پرندے بن گئے ہیں۔ تھیروپوڈ نسل کے بعض ڈائنوسار 12 گنا سکڑ کر 163 کلو سے 800 گرام تک گھٹ کر پرندے بن تھے۔سائنس دانوں نے دریافت کی کہ تھیروپوڈ وہ واحد ڈائنو سار تھے جو مسلسل سکڑتے رہے۔ ان کے ڈھانچے چار گنا زیادہ تیزی سے تبدیل ہوئے جس سے انھیں اپنی نسل کی بقا میں مدد ملی۔اس نسل کے ڈائنوساروں میں ٹی ریکس اور ویلوسی ریپٹر جیسے معروف ڈائنوسار شامل تھے۔یہ تحقیق چند برس قبل ایک سائنسی جریدے میں شائع ہوئی تھی۔
اب اس تحقیق میں پیشرفت ہوئی ہے کہ ڈائنوسار کے زمانے کے پرندوں کے دو پر عنبر کے اندر محفوظ حالت میں دریافت ہوئے ہیں۔ نیچر کمیونیکیشن نامی جریدے کے مطابق میانمار میں کی جانے والی یہ شاندار دریافت ننھے پرندوں کی باقیات پر مشتمل ہے جو تقریبا دس کروڑ برس قبل ایک استوائی جنگل میں درختوں سے نکلنے والی لیس دار رال میں پھنس کر رہ گئے تھے۔پرندوں کے پروں کی باریک تفصیلات عنبر میں محفوظ ہو گئی ہیں، جن میں دھاریوں اور دھبوں کے رنگ بھی شامل ہیں۔پروں میں تیز پنجے بھی ہیں، جن سے ان ننھے پرندوں کو درختوں کی ڈالیاں پکڑنے میں مدد ملتی ہو گی۔یہ فاسل دو سے تین سینٹی میٹر کے درمیان ہیں، اور ان کی مدد سے ڈائنوساروں سے پرندوں کے ارتقا پر روشنی پڑ سکتی ہے۔تحقیق کے شریک مصنف مائیک بینٹن کا تعلق برطانیہ کی یونیورسٹی آف برسٹل سے ہے۔
انکی تحقیق کے مطابق انفرادی پروں میں ہر بال اور ریشہ صاف دکھائی دیتا ہے، چاہے وہ اڑنے میں مدد دینے والے پر ہوں یا جسم پر بال۔ اور ان میں رنگوں، دھبوں اور دھاریوں کا شائبہ بھی ہے۔پرندوں کی یہ نوع ڈائناساروں کے ساتھ ہی 6.6 کروڑ سال پہلے معدوم ہو گئی تھی۔سکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے قدیم بیالوجسٹ سٹیو بروسیٹ نے بتایاکہ یہ شانداردریافت ہے۔ کون سوچ سکتا تھا کہ دس کروڑ برس پرانے پر عنبر میں محفوظ رہ سکتے ہیں؟ان کا شمار ان حیرت انگیز ترین فاسلز میں ہوتا ہے جو میں نے دیکھے ہیں۔ ہمیں کئی عشروں سے معلوم ہے کہ کئی ڈائنوساروں کے پر ہوا کرتے تھے، لیکن زیادہ تر پروں کے نشان چونے کے پتھروں پر کندہ تھے۔عنبر میں محفوظ ان پروں کی مدد سے ایک بالکل نیا تناظر مل گیا ہے اور ان سے صاف طور پر معلوم ہوا ہے کہ پرندے ڈائنوساروں کے ساتھ ساتھ رہا کرتے تھے۔
اور ان کے پر موجودہ پرندوں کے پروں سے بہت ملتے جلتے ہیں۔عنبر کے اندر پنجوں کے کھرونچوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جب یہ پرندے عنبر میں پھنسے تو اس وقت زندہ تھے۔ڈاکٹر شی لینڈ کہتے ہیں کہ یہ پرندے چھوٹی جسامت اور ناتجربہ کاری کی وجہ سے عنبر میں پھنس کر رہ گئے۔عنبر کے دوسرے نمونوں میں ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے پرندے اس لیس دار مادے سے بچ کر رہا کرتے تھے یا پھر اپنے آپ کو پھنسنے سے پہلے ہی نکال لیا کرتے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…