ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

دنیاکی منحوس ترین فلمیں

datetime 28  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )آج ہم آپ کو ایک ایسی فلم کے بارے میں بتاتے ہیں جسے دنیا کی منحوس ترین فلم کہا جاتا ہے، وہ اس لیے کہ اس فلم کے ریلیز ہونے کے بعد چند سال کے دوران فلم میں کام کرنے والے بیشتر اداکار ناگہانی اموات کا شکار ہو گئے ، جس کے بعد شائقین نے اسے منحوس فلم کا خطاب دے دیا۔ سٹیون سپیل برگ کی ہارر مووی Poltergeistنے 1982ءمیں ریلیز ہوتے ہی تہلکہ مچا دیا تھا، فلم اس قدر خوفناک تھی کہ سنیما گھروں میںآئے لاکھوں لوگ حقیقت میں خوف کا شکار ہو گئے تھے۔فلم کی کہانی ایک ایسی لڑکی کے گرد گھومتی ہے جس پر بھوت کا سایہ ہوتا ہے۔فلم اس قدر کامیاب رہی کہ جلد ہی اس کے 2سیکوئل بنائے گئے۔ اداکار اولیور رابن ،جس نے فلم بھوت کے سائے کاشکار لڑکی کے بھائی کا کردار ادا کیا تھا، نے برطانوی جریدے ڈیلی میل آن لائن کو انٹرویو دیتے ہوئے رابن نے کہا کہ فلم ریلیز ہونے کے فوراً بعد ایسے واقعات ہونا شروع ہو گئے جن کے بعد شائقین اس فلم کو منحوس کہنے میں حق بجانب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلم میں میری بہنوں کا کردار ادا کرنے والی لڑکیوں میں سے ڈومنیک ڈونے کو اس کے بوائے فرینڈ نے اس کے گھر میں پھندا دے کر قتل کر دیا تھا۔ ڈومنیک نے فلم میں میری بڑی بہن کا کردار ادا کیا تھا۔ فلم میں پاگل مبلغ کا کردار ادا کرنے والے اداکار جولین بیک 1985ءمیں معدے کے کینسر سے جاں بحق ہو گئے اور ول سمپسن جس نے فلم کے دوسرے سیکوئل میں ٹیلر کا کردار ادا کیا تھا1987ءمیں گردے فیل ہونے کے باعث محض 53برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ یہ منحوس واقعات یہیں پر نہیں رکے، 2009ءمیں 67سالہ لو پیری مین کو ان کے ٹیکساس میں واقع گھر میں کلہاڑے کے وار سے قتل کر دیا گیا۔ لوپیری مین نے فلم میں پگسلے کا کردار نبھایا تھا۔رابن نے کہا کہ سب سے بھیانک واقعہ 1988ءمیں پیش آیا جب فلم اور اس کے دونوں سیکوئلز میں میری چھوٹی بہن کا کردار ادا کرنے والی ہیتھر او رورک 12سال کی عمر میں ہارٹ اٹیک سے چل بسی۔ ہر شخص فلم کے فوراً بعد اس میں کام کرنے والے فنکاروں کی اموات پر دل گرفتہ تھا اور لاکھوں شائقین نے اسے منحوس فلم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ”میں پوری ایمانداری سے کہتا ہوں کہ فلم کے کسی فنکار نے اس نحوست کو سنجیدہ نہیں لیا تھا، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی نحوست نہیں، محض حادثات تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…