ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

اہم اسلامی ملک نے پوری دنیا کا ریکارڈ توڑ دیا، گینز بک آف دی ورلڈ ریکارڈز بھی سوچنے پر مجبور

datetime 25  جولائی  2016 |

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)گزشتہ بدھ کا روز کویت میں تاریخی اہمیت کا حامل بن گیا جب اس کے ایک علاقے مطربہ میں درجہ حرارت 54 ڈگری سینٹی گریڈ یعنی 129 فارن ہائٹ تک پہنچ گیا۔ یہ اب تک دنیا بھر میں ریکارڈ کیا جانے والا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔ موسمیات سے متعلق عالمی تنظیم (ڈبلیو ایم او)نے اس کی تصدیق کی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق کویت میں شہری ہوابازی کی جنرل مینجمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل کے بیورو کے مشیر عیسی رمضان نے بھی مذکورہ درجہ حرارت کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر ایک نقشہ بھی پوسٹ کیا ہے جس میں اس روز کویت کے مختلف علاقوں کے درجہ حرارت موجود ہیں۔ ان میں اہم ترین کویت کے شمال مغرب میں واقع علاقہ مطربہ رہا جہاں پر درجہ حرارت 54 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔اس سے قبل عالمی ریکارڈ 56.7 ڈگری سینٹی گریڈ یعنی 134 فارن ہائٹ کا تھا۔ یہ امریکا کی ریاست کیلیفورنیا میں واقع ڈیتھ ویلی میں 10 جولائی 1913ء کو ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم موسمیات سے متعلق جدید اور ترقی یافتہ اداروں کی اکثریت اس ریکارڈ کی صحت پر شک کرتے ہیں اس لیے کہ اس زمانے میں استعمال کیے جانے والے آلات میں ہمیشہ غلطی کا امکان رہتا تھا۔جہاں تک 13 ستمبر 1922 کو لیبیا میں 58 ڈگری سینٹی گریڈ یعنی 136.4 فارن ہائٹ ریکارڈ ہونے کی بات ہے تو 90 سال بعد یہ واضح ہوگیا کہ وہ صحیح نہیں تھا۔ اس بات کی تصدیق موسمیات کی عالمی تنظیم نے پرانے ریکارڈز پر نظرثانی کے بعد جون 2012 میں جاری اپنی ایک رپورٹ میں کردی تھی۔ایسے وقت میں جب کہ کویت میں اس درجہ حرات کو ریکارڈ کیا گیا جس کے نتیجے میں گینز بک آف ریکارڈزکرہ ارض پر سب سے زیادہ درجہ حرارت کے اندراج کے لیے اپنے صفحات کھول دے گی.. اس کے دو روز بعد موسم سے متعلق مشہور مؤرخ کرسٹوفر برٹ نے ایک غیرملکی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں اس روز دوسرا سب سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ گیا تھا جس روز کویت میں 54 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔ گزشتہ بدھ کے روز بصرہ میں درجہ حرارت 53.9 ڈگری سینٹی گریڈ یعنی 129 فارن ہائٹ ریکارڈ کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…