ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

انٹرنیٹ کے ذریعے 70لاکھ ہتھیانے والی ملزمہ کا انوکھا مقدمہ، عدالت نے طلب کر لیا

datetime 13  جون‬‮  2016 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک )لاہور ہائیکورٹ نے انٹرنیٹ کے ذریعے نکاح کر کے بیرون ملک مقیم خاوند سے مبینہ طور پر70 لاکھ ہتھیانے کے مقدمہ میں نامزد ملزمہ کی درخواست ضمانت پر فریقین کے وکلاء کو بحث کے لئے طلب کر لیا۔عدالت نے ریمارکس دئیے کہ شادی مقدس فریضہ ہے,شادی کے نام پر معاہدات اور کاروباری لین دین کے ذریعے لڑکیوں کے مستقبل کو تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور نے کیس کی سماعت کی ۔ دوران سماعت ملزمہ انعم ظفر مقدمے میں نامزد لڑکی کے والد محمد ظفر، والدہ تنویر اختر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس کی موکلہ نے آسٹریلین نژاد پاکستانی طیب سے انٹرنیٹ کے ذریعے شادی کی، شادی کے بعد پتہ چلا کہ لڑکا پہلے سے شادی شدہ ہے اسی بناء پر وہ اپنی بیوی کو آسٹریلیا اپنے پاس نہیں بلا رہا۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ حق زوجیت مانگنے پر اس کے خاوند نے اسے طلاق دے کر لڑکی اس کی والدہ اور والد کے خلاف تھانہ سانگلہ ہل میں دھوکہ دہی کاجھوٹا مقدمہ درج کرا دیا لہذا عدالت ان کی ضمانت منظورکرے ۔ دوران سماعت لڑکے کی والدہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اس کے بیٹے نے دوسری شادی نہیں کی بلکہ لڑکی والوں نے گھر خریدنے کیلئے ان سے70 لاکھ روپے لئے جبکہ نکاح کے وقت دیا گیا 10 تولے سونا بھی ان کے پاس ہے جو طلاق کے باوجود واپس نہیں کررہے لہذا عدالت ملزمان کی ضمانت منظور نہ کرے،جس پر عدالت نے ریمارکس دئیے کہ پیسے کے لین دین کے معاملہ کو جواز بنا کر لڑکی کے مستقبل کو تباہ نہ کیاجائے,,ہماری تہذیب و ثقافت میں شادی شدہ جوڑے آپس میں معاہدات اور کاروباری لین دین سے گریز کرتے ہیں۔عدالت نے دونوں فریقین کو باہمی افہام و تفہیم سے معاملہ سلجھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت23 جون تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…