نئی دہلی(این این آئی)بھارتی حکومت نے کہاہے کہ شمالی ریاست اترپردیش کے پارک میں موجودہ قبضہ مافیا نے اپنی حکومت اورفوج قائم کررکھی تھی جب کہ متبادل عدالتیں اور جیلیں بھی تھیں، جہاں تشدد ایک عمومی معاملہ تھا،بھارتی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے ایک سینئر بھارتی حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ عدالتی حکم پر جب پولیس پارک کو خالی کرانے پہنچی تو اس فرقے سے منسلک قریب تین ہزار افراد نے پولیس پر حملہ کر دیا، انہوں نے بتایا کہ ان افراد نے ابتدا میں اپنے ماننے والوں کو اس پارک میں چھوٹے چھوٹے گھر بنا دئے جب کہ اپنی ہی ایک حکومت قائم کر لی، انہوں نے بتایا کہ اس پارک کا قبضہ پولیس نے چھڑا لیا ہے جب کہ متعدد اہم دستاویزات قبضے میں لے لی ہیں،انہوں نے اپنی عدالتیں قائم کر رکھی تھیں، جہاں لوگوں کو سزائیں دی جاتی تھی جب کہ قیدیوں کو بیرکوں میں رکھا جاتا تھا اور عقوبت دی جاتی تھی۔ یہاں بچوں کو ہتھیار چلانے کی تربیت دی جاتی تھی اور ان میں آٹھ برس کی عمر کے بچے بھی شامل تھے۔انہوں نے بتایا کہ یہ اپنی ہی طرز کا ایک ہندو فرقہ تھا، جو اپنے ماننے والوں کو ’مذہبی دہشت گردی‘ کی تعلیمات دے رہا تھا اور اس کی سربراہی ہندومت کی خودساختہ تشریحات کرنے والا ایک گرو تھا۔ ’’ان افراد کا منصوبہ تھا کہ یہ جلد ہی اپنی کرنسی شروع کر دیں گے اور یہ بھارتی دستور کو بھی نہیں مانتے تھے۔ اس فرقے کا سرغنہ واقعے کے بعد سے روپوش ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔