اسلام آباد(نیوز ڈیسک )بہت سے مردوں کا دعویٰ ہے کہ وہ گھر کے کام اور بچوں کی دیکھ بھال اپنی بیویوں کے تقریباً برابر کرتے ہیں مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔اس سلسلے میں پیو ریسرچ سینٹر نے حال ہی میں ایسے گھروں کا سروے کیا ہے جہاں شوہر اور بیوی دونوں ملازمت کرتے ہیں۔ سروے کے مطابق بچوں سے پہلے شوہر اور بیوی دونوں تقریباً ہفتے بھر میں ساڑھے 14 گھنٹے گھر کا کام کرتے ہیں مگر پیدائش کے بعد خاتون کا سارا کام جس میں معاوضے پر کیا جانے والا کام، ہاو¿س ورک اور بچوں کی دیکھ بھال شامل ہے ہفتے میں 21 گھنٹے بڑھ جاتا ہے جب کہ مردوں کا صرف ساڑھے 12 گھنٹے بڑھتا ہے۔بچوں کے بعد مردوں پر یہ دھن سوار ہوجاتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائیں جب کہ عورتوں سے امید کی جاتی ہے کہ وہ گھر پر زیادہ وقت دیں مگر جیسا کہ ماہر سماجیات پالا انگلینڈ اور دوسروں نے لکھا ہے کہ جینڈر (صنفی) انقلاب ابھی تک یک طرفہ رہا ہے خواتین تو ان ملازمتوں میں گھس گئی ہیں جو مردوں کی سمجھی جاتی ہیں۔ مرد ابھی تک روایتی زنانہ سرگرمیوں سے خود کو دور رکھے ہوئے ہیں۔
ورکنگ وویمن اب بھی گھروں پرمردوں سے زیادہ کام کرتی ہیں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ابھیشیک شرما نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا
-
بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)
-
ناناپاٹیکر کی موت کی وجہ کیا بنی؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں نئے انکشافات سامنے آگئے
-
سعودی عرب جانے والے پاکستانی مسافروں کے لیے اہم اعلان
-
چڑیا گھر میں ٹائیگر کے پنجرے میں داخل ہونے والا شخص ہلاک، انتظامیہ کا ٹائیگر کو زندہ رکھنے کا فیصلہ
-
ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایسا ریکارڈ قائم جو شاید کبھی نہ ٹوٹ سکے
-
گھر بیٹھے شناختی کارڈ پر تصویر اور مستقل پتہ تبدیل کروانے کا طریقہ
-
نانا پاٹیکر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی
-
لاہور: رشتہ ٹوٹنے کے رنج میں سابق منگیتر کی لڑکی سے زیادتی
-
معروف اینکر اقرار الحسن کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا
-
سیاسی جماعت کا استحکام پاکستان پارٹی میں ضم ہونے کا اعلان
-
حکومت نے پیٹرول سستا، ڈیزل مہنگا کرنے کا اعلان کردیا
-
پولیس کی 8 پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کی تصدیق
-
عرفان پٹھان کو افغان کرکٹر راشد خان کے گھر دعوت کی ویڈیو مہنگی پڑگئی



















































