ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

سمندری ہوا سے موسیقی بکھیرنے والا 230 فٹ طویل باجا تیار

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) کروشیا کے خوبصورت شہر زیدر میں سمندر کنارے ایک آرکیٹکٹ نے 2005 میں سیڑھیوں کی طرز پر ایسی تعمیرات کی ہیں جو منہ سے بجانے والے باجے ”ماو¿تھ آرگن“ جیسی ہیں اور جب ہوا اور پانی ان سوراخوں میں داخل ہوتی ہے تو دلکش موسیقی سنائی دیتی ہے۔ اس خوبصورت شہر کے ساحل کنارے سیڑھیوں کے مختلف زینوں پر مختلف انداز میں موسیقی سنی جاسکتی ہے اور سب سے بلند زینے پر موجود سوراخوں سے ہوا اور پانی کی دلکش موسیقی سنائی دیتی ہے جو سمندر کے منظر کے ساتھ سننے والے پر ایک سحر طاری کردیتی ہے۔ دوسری جنگِ عظیم میں یہ علاقہ تباہ ہوگیا تھا جسے دوبارہ تعمیر کیا گیا اور اس میں اب ہوائی باجا بھی بنایا گیا ہے جس کی لمبائی 230 فٹ ہے۔ اس حیرت انگیز شاہکار کو دیکھنے اور آواز سننےکے لیے ملکی اور بین الاقوامی سیاحوں کا ہجوم رہتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہےکہ سمندری آرگن بھی قدیم دنیا میں اسی طرح کی ایک تعمیر سے متاثر ہوکر بنایا گیا اور تاریخی حوالوں میں آیا ہے کہ قدیم یونانیوں نے ساحل کے پاس ایسا ہی ایک اسٹرکچر بنایا تھا جس میں پائپ نصب تھے جس میں ہوا اور پانی داخل ہونے سے سیٹیاں بجتی تھیں۔ کروایشیا کے آرگن میں 35 پائپ لگائے گئے ہیں جن میں سے ہر ایک پائپ میں مختلف انداز میں ہوا گزرتی ہے اور مختلف آواز خارج ہوتی ہے یہ ہوا سیڑھیوں میں بنے ہوئے سوراخوں اور جھریوں سے اندر داخل ہوتی ہے اور اس طرح ایک دلکش موسیقی سنائی دیتی ہے جب کہ اس کے 7 مختلف زینوں پر سات مختلف انداز کا میوزک سنا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…