ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

ایلومینیم فوائل آ پ کی گاڑی چور ی ہونے سے بچا سکتا ہے

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)گاڑی کی چوری نہ صرف پاکستان میں ایک مسئلہ بن چکا ہے بلکہ یورپ ممالک میں بھی یہ ایک درد سر ہے۔جیسے جیسے گاڑیوں کی ٹیکنالوجی میں اضافہ ہورہا ہے اور وہ جدید ہورہی ہیں ویسے ہی چور بھی اپنے آپ کو ٹیکنالوجی کے ساتھ اپ گریڈ کررہے ہیں۔چابی کے بغیر کھلنے اور سٹارٹ ہونے والی گاڑیوں کی چوری بھی ایک انتہائی آسان چیز بن چکی ہے۔لوگوں کا خیال تھا کہ اس طرح کی گاڑی لینے سے چور گاڑی چوری نہیں کرسکیں گے لیکن یہ خیال یکسر غلط ثابت ہوا۔اس طرح کی گاڑیوں کو PKESبھی کہا جاتا ہے اور یہ اس اصول پر کام کرتی ہیں کہ چابی اور گاڑی کے سنسر ہم آہنگ ہوتے ہیں اور جب چابی گاڑی کے سیسنرز کی رینج میں آجاتی ہے تو یہ خودبخود کھل جاتی ہے اور صرف بٹن دبانے پر سٹارٹ بھی ہوجاتی ہے۔سوئزرلینڈ کی زیورچ یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے کچھ ایسے خودکار انٹینے استعمال کئے جن کی مدد سے گاڑی کی رینج کو بڑھا دیا گیا اور جیسے ہی یہ رینج چابی کے پاس پہنچی،گاڑی کھل گئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ چوروں کے لئے اس طرح کے طریقے آزمانا کوئی مشکل نہیں اوریہ طریقہ 10ہزار روپے سے بھی کم رقم خرچ کرکے استعمال کیا جاسکتا ہے۔تحقیق کار جیک نیراڈ کا کہناہے کہ جو لوگPKESوالی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ اپنی گای کی چابیوں کو ایلومینیم فوائل میں رکھیں کہ اس طرح گاڑی کا سسٹم چابی کے ساتھ کمیونیکیٹ نہیں کرپائے گا اور گاڑی چوری کرنا ممکن نہ ہوگا۔ایک اور طریقے میں آپ چاہیں تو چابی سے بیٹری کو نکال سکتے ہیں کہ اس طرح پاور نہ ہونے کی وجہ سے چابی اور گاڑی کے درمیان رابطہ نہ ہوسکے گا اور گاڑی نہیں کھلے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…