ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

زرافے اور پرندے کی ایسی دوستی جان کر آپ حیران رہ جائینگے

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

تنزانیہ(نیوز ڈیسک) اگر کسی کے دانت میں درد ہوجائے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح گھریلو ٹوٹکے استعمال کرکے اس سے نجات حاصل کر لیں اور ڈاکٹر کے پاس نہ جانا پڑے کیوں کہ ڈینٹسٹ کا نام ہی خوفزدہ کردیتا ہے اور ایسا ہی کچھ منظر جنگل میں بھی نظرآیا جس میں ایک ننھا منا پرندہ اپنی چونچ سے زرافے علاج کر رہا ہے لیکن زرافہ بادل نخواستہ ٹیڑھا منہ بنا کر اسے برداشت کر رہا ہے۔تنزانیہ کے جنگل میں میں لمبی گردن والے زرافے کے دانت کا بظاہر علاج کرتے اس ننھے منے پرندے کی تصاویر نے سوشل میڈیا پر دھوم مچادی اور لوگ پرندے کی بہادری اور ہمت کی داد دیئے بغیر نہ رہ سکے۔ آکس پیکرز نامی اس پرندے کی آرام کرنے کی پسندیدہ جگہ زرافے اور زیبرا کی کمر ہے اور اس کی پسندیدہ غذا زرافے کے دانتوں میں پھنسی ہوتی ہے جسے کھانے کے دوران پرندہ نہ صرف اپنا پیٹ بھرتا ہے بلکہ اپنی تیز نوک دار چونچ سے اسے صاف کر کے مضبوط بناتا ہے۔ آکس پیکرز کا دانت صاف کرنے کا یہ آپریشن شاید زرافہ کو پسند نہیں آتا تا ہم پھر بھی وہ پرندے کو اس کام سے اس وقت نہیں روکتا جب تکہ کہ تمام دانت صاف نہیں ہوجاتے۔ماہرین جنگلات کا کہنا ہے کہ یہ پرندہ جنگل میں اپنا زیادہ تر وقت زیبرا، زرافہ اور بارہ سنگھا کی کمر پر بیٹھ کر اپنا وقت گزاراتا ہے کیوں کہ اسے اپنی پسندیدہ خوارک ٹک یعنی چیچڑ بارہ سنگھا کی کمر سے اور زرافہ کے مسوڑھوں سے ملتی ہے۔ ان مناظر کو اپنے کیمرے کی آنکھ میں بند کرنے والے روسی فوٹوگرافر یولیا سندوکووا کا کہنا ہے کہ اس منظر کو دیکھ کر یہی سمجھ میں آتا ہے کہ پرندہ زرافہ کے دانتوں کا چیک اپ کر رہا ہے لیکن حقیقت میں وہ زرافہ کے دانتوں میں پھنسی غذا نکال کر اپنا پیٹ بھر رہا ہے جب کہ زرافہ بری شکلیں بناتا ہوا تکلیف میں محسوس ہورہا ہے لیکن وہ پرندے کو اپنا کام کرنے کا پورا موقع دیتا ہے۔ اس میں سب سے دلچسپ بات زرافہ کے کھڑے ہونے کا انداز ہے جس سے یوں لگتا ہے جیسے کوئی ڈینٹسٹ کے جلد کام ختم کرنے کا انتظار کر رہا ہو۔فوٹو گرافر کا کہنا ہے کہ اس پرندے اور زرافے میں بڑا دلچسپ اور حیرت انگیز تعلق ہے جس میں وہ دونوں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں یعنی پرندہ اپنا کھانا حاصل کرلیتا ہے اور زرافے کے دانت صاف ہوجاتے ہیں اور کبھی کبھی تو یہ پرندہ زرافے کو خطرے سے بھی آگاہ کرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…