پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

انڈونیشیا کا ایسا گاؤں جہاں مردہ بچوں کو درختوں میں دفنایا جاتا ہے

datetime 14  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) انڈونیشیا میں سلواویسی کے جنوبی پہاڑی علاقوں کے قبائلی اپنے مرے ہوئے بچوں کو درختوں کے تنوں میں دفن کرتے ہیں۔
انڈونیشیا میں دوردراز تانا توراجا کے گاو¿ں میں لوگ مردہ پیدا ہونے والے یا مرجانے والے چھوٹے بچوں کو کپڑوں میں لپیٹ کر انہیں درختوں کے وسیع تنوں یا کھوہ میں دفنادیتے ہیں تاکہ وہ درختوں کے ساتھ پروان چڑھیں اور فطرت میں جذب ہوجائیں۔ اس کے لیے بڑے درختوں میں سوراخ کرکے بچوں کی لاشوں کو رکھ کر اسے بند کردیا جاتا ہے اور انہیں یقین ہے کہ کچھ برس میں بچے درخت کا حصہ بن کر فطرت میں جذب ہوجائیں گے۔ اس طرح ایک درخت کئی بچوں کی قبر بنتا ہے جسے گھاس پھوس اور پام کے پتوں سے ڈھانک کر بند کردیا جاتا ہے۔
درختوں میں ایسے شیرخوار بچوں کو رکھا جاتا ہے جن کے دانت نہیں نکلے ہوتے، درخت کی قبر میں رکھنے کے بعد بچے کے لواحقین اپنے کپڑے بدل کر پورے گاو¿ں کا چکر لگاتے ہیں اور اس پوری رسم کو مائی نین کہا جاتا ہے اس میں لواحقین کو یقین ہوتا ہے کہ اس طرح مرنے والا بچہ ان کے ساتھ رہے گا خواہ اسے مرے ہوئے کتنے ہی سال بیت چکے ہیں۔ اس گاو¿ں کے لوگ بڑوں کے مرنے کے بعد اس کے تابوت کو رسی سے باندھ کر پہاڑ پر لٹکادیتے ہیں جب کہ اس گاو¿ں میں مرنے کےرسومات بھی کئی دن تک جاری رہتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…