لاہور(نیوز ڈیسک) دنیا کے امیر ترین افراد کی زندگی پر نظر دوڑائی جائے تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ ان میں سے بہت سے افراد اپنی محنت کے بل بوتے پر اس مقام پر پہنچتے ہیں۔ اس کے باوجود کروڑ پتی بننا ہم سے بہت سے افراد کیلئے ایک خواب ہی رہتا ہے کیونکہ وہ سوچتے ہیں کہ پیسہ کمانے اور کوئی بڑا بزنس شروع کرنے کیلئے بہت سارے پیسوں کی ضرورت ہے۔
جوئے جینڈوسا:
پوسٹ کارڈ مینیا کی سربراہ جوئے جینڈوسا ایک فری لانسر تھیں جنھیں ایک مرتبہ اپنے بزنس کی تشہیر کیلئے کچھ پوسٹ کارڈز خریدنے کی ضرورت پیش آ گئی۔ جوئے جینڈوسا اس وقت حیران رہ گئیں جب انھیں پتا چلا کہ انھیں صرف چند پوسٹ کارڈز کی چھپائی کیلئے غیر ضروری فیس ادا کرنی پڑے گی۔ انہوں نے اسی وقت عزم کیا کہ وہ پوسٹ کارڈ کی چھپائی کا اپنا بزنس شروع کریں گی جس کیلئے لوگوں کو غیر ضروری رقم ادا نہیں کرنا پڑے گی۔ یہی سے ان کی کمپنی پوسٹ کارڈ مینیا کی بنیاد پڑی۔ جوئے جینڈوسا نے بغیر کسی رقم کے اپنا بزنس سٹارٹ کیا۔ شروعات میں پوسٹ کارڈز کی چھپائی سے انھیں جو بھی رقم حاصل ہوتی وہ اس سے اپنے پرنٹر کو ادائیگی کر دیتیں۔ اتنی مشکلات کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں چھوڑی اور ایسا وقت آ گیا جب ان کی کمپنی نے اچھی خاصی کمائی شروع کر دی۔ آج یہ کمپنی سالانہ 20 ملین ڈالرز کماتی ہے۔
بلیو ب±دھا بوتیک:
ربیکا موجیکا بلیو ب±دھا بوتیک کی مالکن ہیں جن کا ایک مرتبہ ایک فیسٹیول میں جانے کا اتفاق ہوا۔ اس فیسٹیول میں انہوں نے ایک بیلٹ دیکھی جو ان کی قوت خرید سے باہر تھی۔ انہوں نے اس کے بعد انہوں نے مختلف مارکیٹس میں اس طرح کی بیلٹس ڈھونڈیں لیکن کافی تلاش کے بعد بھی وہ اسے حاصل نہ کر پائیں۔ ربیکا موجیکا نے تب سوچا کہ وہ خود سے ایسی بیلٹس بنائیں گی۔ ربیکا موجیکا کے پاس اپنا نیا بزنس سٹارٹ کرنے کیلئے صرف 20 ڈالرز کی رقم تھی۔ انہوں نے اس سرمائے سے بنائی گئی بیلٹس کو اپنے دوستوں اور رشتہ داروں میں فروخت کیا لیکن اس کے بعد بھی ان کا بزنس آگے نہیں بڑھ سکا تو انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ ایسی بیلٹس بنانا دوسرے لوگوں کو بھی سکھایا جائے۔ اسی دوران بلیو ب±دھا بوتیک کا قیام عمل میں آ چکا تھا۔ آج اس کمپنی میں 13 افراد کام کرتے ہیں اور یہ کمپنی سالانہ لاکھوں ڈالرز کماتی ہے۔ میٹ شاو¿پ ایک کالج میں پینٹر تھے۔ جب انھیں کسی وجہ سے اپنی ملازمت کے ہاتھ دھونا پڑے تو انہوں نے اپنا کاروبار شروع کرنے کا ارادہ کیا لیکن ان کی جیب میں صرف 100 ڈالرز کی رقم تھی۔ میٹ شاو¿پ نے اس کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور گھر گھر جا کر پوچھا کہ اگر کسی کو مکان میں رنگ و روغن کی ضرورت ہے تو ان کی خدمات حاضر ہیں۔ شروع میں ان کو مشکلات کا سامنا رہا لیکن ان کا عزم بہت پختہ تھا۔ انہوں نے اپنے کاروبار میں اپنے چند دوستوں کو شامل کیا تو ان کا کاروبار چل نکلا۔ کاروبار کے پہلے سال ایم ایڈ ای پینٹنگ کمپنی کو 50 ہزار ڈالرز کا منافع ہوا۔ آج سات سال بعد یہ کمپنی تقریبا 3 ملین ڈالرز سالانہ کما رہی ہے۔
آپ بھی دولت میں اضافہ کرسکتے ہیں , سرمائے کے بغیربلین روپے کمانے کے آسان طریقے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ابھیشیک شرما نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا
-
بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)
-
ناناپاٹیکر کی موت کی وجہ کیا بنی؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں نئے انکشافات سامنے آگئے
-
سعودی عرب جانے والے پاکستانی مسافروں کے لیے اہم اعلان
-
چڑیا گھر میں ٹائیگر کے پنجرے میں داخل ہونے والا شخص ہلاک، انتظامیہ کا ٹائیگر کو زندہ رکھنے کا فیصلہ
-
ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایسا ریکارڈ قائم جو شاید کبھی نہ ٹوٹ سکے
-
گھر بیٹھے شناختی کارڈ پر تصویر اور مستقل پتہ تبدیل کروانے کا طریقہ
-
نانا پاٹیکر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی
-
لاہور: رشتہ ٹوٹنے کے رنج میں سابق منگیتر کی لڑکی سے زیادتی
-
معروف اینکر اقرار الحسن کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا
-
سیاسی جماعت کا استحکام پاکستان پارٹی میں ضم ہونے کا اعلان
-
حکومت نے پیٹرول سستا، ڈیزل مہنگا کرنے کا اعلان کردیا
-
پولیس کی 8 پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کی تصدیق
-
عرفان پٹھان کو افغان کرکٹر راشد خان کے گھر دعوت کی ویڈیو مہنگی پڑگئی



















































