جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

بھارت شہر بنگلور میں آگ اگلنے والی جھیل

datetime 7  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیو ڈیسک )بھارتی شہر بنگلور کے وسط سے گزرنے والی بیلندر نامی جھیل میں زہریلا پانی مکمل طور پر بھر گیااور آلودگی کے باعث پانی فوم کی شکل اختیار کرچکا ہے جب کہ گندگی سے جھیل میں آگ بھی لگ جاتی ہے جس سے اسے ”آتشیں جھیل“ بھی کہا جاتا ہے۔
بیلندر نامی اس جھیل کا رقبہ 9 ہزار ایکڑ ہے جو بنگلور کی بڑی جھیلوں میں سے ایک ہے جس میں کئی سال سے نکاسی کا پانی اور فیکٹریوں کا زہریلا پانی شامل ہورہا ہے جس نے پانی کی اوپری سطح کو شیونگ فوم کی شکل دے دی ہے جب کہ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اس میں تیل، گریس اور دیگر غلاظت جمع ہونے سے جھیل میں کبھی کبھی آگ بھی لگ جاتی ہے جس کے باعث اسے ”آتشیں جھیل“ بھی کہا جاتا ہے۔
بارش کے بعد اس جھیل کی بدبو پورے علاقے میں پھیل جاتی ہے اور اس میں موجود فوم اڑ کر آس پاس گزرنے والی گاڑیوں اور دیگر افراد پر گرتا ہے جب کہ گندے پانی میں خطرناک کیمیکل ملاوٹ کے باعث جھیل میں کئی بار آگ بھی لگ چکی ہے جسے دیکھ کر لوگ بری طرح خوفزدہ ہیں۔
بنگلور کے ایک ماہرِ ماحولیات ٹی وی راما چندرن نے جھیل میں آگ لگنے کے واقعات پر رپورٹ ترتیب دی ہے جس کے مطابق بغیر ٹریٹمنٹ کا آلودہ پانی جھیل میں آنے سے آلودگی اور آگ لگنے کے واقعات بڑھ رہے ہیں اس لیے علاقے کے عوام کو اس سے متعلق شعور حاصل کرنا ہوگا کیونکہ جھیل میں خطرناک کیمیکل کی موجودگی کے باعث سگریٹ پھینکنے سے بھی آتشزدگی کا واقعہ پیش آ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ بنگلور کو ہزاروں جھیلوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے تاہم بڑھتی ہوئی آلودگی کے سبب اب یہاں گندے ٹینکوں کی بھی بھرمار ہے اور شہر کے مجاز ادارے ان مسائل پر قابو پانے میں بری طرح ناکام ہیں۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…