ہفتہ‬‮ ، 10 جنوری‬‮ 2026 

چین میں ملازمین کو کام کیلئے پرسکون ماحول فراہم کرنے کا انوکھا طریقہ

datetime 3  اکتوبر‬‮  2015 |

بیجنگ(نیوز ڈیسک) ایک چینی کمپنی نے اپنے ملازمین کی کارکردگی بڑھانے کے لئے انہیں دلچسپ اور رنگ برنگے ماسک پہن کرکام کرنے کی اجازت دی ہے تاکہ وہ مکمل اطمینان اور خود اعتمادی کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دے سکیں۔غیرملکی میڈیا کے مطابق مشرقی چین کے شہر ہینگزو کی ایک کمپنی جو کہ شہر میں ایک بڑے مووی تھیم پارک کو چلاتی ہے نے اعلان کیا ہے کہ ادارے میں کام کرنے والے تمام اہلکار دفتر میں کام یا کسی بھی میٹنگ کے دوران اپنے چہرے کو چھپا سکتے ہیں جس کے لئے وہ مختلف جانوروں، پرندوں، خلائی مخلوق اور دیگر دلچسپ کرداروں کے رنگ برنگے ماسک استعمال کرسکتے ہیں۔کمپنی کے مینیجر کے مطابق اس بات کا فیصلہ ‘ ڈی اسٹریس ڈے ‘ کے موقع پرکیا گیا جب تمام ملازمین مختلف کرداروں کے ماسک پہن کر دفتر آئے۔ مینیجر کا کہنا ہے کہ اس انوکھے طریقے کے ذریعے ان کے ادارے میں کام کرنے والے تمام افراد خود کو پرسکون محسوس کرسکیں گے اور ماسک پہننے کا فائدہ خاص طور پر اس وقت ہوگا جب کسی ملازم نے اپنے ساتھیوں اوراپنے سینیئرز یا نگراں کے سامنے کوئی آئیڈیا یا پریزینٹیشن دینا ہوگی کیونکہ اس دوران اس کے چہرے کے جذبات کسی پرظاہرنہیں ہوں سکیں گے جو کہ پریزنیٹیشن دینے والے کے اعتماد میں اضافے کا سبب بنے گا۔ماسک پہن کر کام کرنے کا سب سے زیادہ فائد جونیئر ملازمین کو ہوگا جو کسی بھی میٹنگ میں نہایت اعتماد کے ساتھ اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکیں گے جب کہ ایسے افسران جو ‘اپنے ماتحتوں پر زیادہ سختی کرتے ہیں اورہروقت انہیں ملامت کرتے رہتے ہیں تو مساک پہن کر ملازمین ان کا سامنا بھی خود اعتمادی کے ساتھ کرسکیں گے۔کمپنی مینیجر کا کہنا ہے کہ جس دن تمام ملازمین چہروں پر ماسک پہن کر آئے تھے اس دن ہونے والی میٹنگ میں پہلے سے بہتر اور قدرے تعمیری نتائج سامنے آئے اور تمام ملازمین نے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ دوسری جانب چین میں سوشل میڈیا کے صارفین نے کمپنی کے اس فیصلے پر ملے جلے خیالات کا اظہارکیا ہے۔ ایک صارف کا کہنا تھا کہ ملازمین کی تھکاوٹ دور کرنے کے لئے اس قسم کی سرگرمی کے بجائے انہیں ایک دن کی چھٹی دینی چاہیئے جب کہ بعض افراد نے اسے ایک قابل تحسین اقدام قراردیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…