جمعرات‬‮ ، 30 جولائی‬‮ 2026 

افریقی ملک بینن میں مرنے والے بچوں کے پتلے بناکر انہیں سکول بھیجا جاتا ہے

datetime 31  اگست‬‮  2015 |

بینن(نیوز ڈیسک) افریقی ملک بینن میں فوت ہوجانے والے مردہ بچوں سے مشابہہ پْتلے بناکر ان کے لیے کھانا کھلانے، کپڑے پہنانے اور سکول بھیجنے سمیت تمام روزمرہ کام کئے جاتے ہیں۔پسماندہ اور غریب اس افریقی ملک میں بچوں کی وفات عام ہے اور لوگ اپنے جڑواں بچوں کی موت کا غم دور کرنے کے لیے ان کی مورتیاں بناکرزندہ بچوں کی طرح ان کا خیال رکھتے ہیں۔ اس ضمن میں فون قبیلے کے افراد کا عقیدہ ہے کہ مرنے کے بعد ان کے بچوں کی روح پتلیوں میں چلی جاتی ہے اور اگر ان کا خیال رکھا جائے تو وہ خاندان کو خوشی یا غم دے سکتے ہیں۔ہر روز ان گڈے اور گڑیوں کو لوری دے کر سلایا اور صبح کو اٹھایا جاتاہے۔ زندہ بچوں کی طرح ان کا خیال رکھتے ہوئے انہیں کھانا دیا جاتا ہے اور نئیکپڑے پہنائے جاتے ہیں یہاں تک کہ انہیں اسکول بھی بھیجا جاتا ہے۔ اگر ان کے والدین مصروف ہوں تو گاؤں کے دیگر بزرگ ان بچوں کا خیال رکھتے ہیں۔ لیکن ہر بچے کا پتلا نہیں بنایا جاتا بلکہ صرف جڑواں بچوں کی شبیہیں بنائی جاتی ہیں کیونکہ اس علاقے میں جڑواں بچوں کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور 20 بچوں میں سے ایک جڑواں ولادت ہوتی ہے۔بچوں کی وفات کے بعد ان کا گڈا بہت توجہ سے بناکر باہر رکھ دیا جاتا ہے تاکہ باقی لوگ بھی اسے دیکھ سکیں۔ بچوں کے ان پتلوں پر بد اثرات اتارنے کے لیے انہیں ہفتے میں ایک دفعہ ندی میں نہلایا جاتا ہے۔ عقیدے کے مطابق اگر ان کا درست طورپر خیال نہیں کیا جائے تو روحیں ناراض ہوجاتی ہیں اور گھر میں مسائل آجاتے ہیں اور اسی طرح یہ پتلیاں انہیں بیرونی مصائب سے بھی بچاتی ہیں۔قبیلے کے افراد کے مطابق روحوں والی پتلیوں کے لیے چھوٹا فرنیچر اور دیگر چھوٹا سامان بھی تیار کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…