جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

سوشل میڈیا نے شامی پناہ گزین کی زندگی بدل دی

datetime 29  اگست‬‮  2015 |

بیروت(نیوزڈیسک).سوشل میڈیا محض اپنوں سے رابطوں کا نہیں بلکہ لوگوں کی زندگی بدلنے کا بھی ذریعہ بنتا جارہا ہے ۔ ایسا ہی کچھ ہوا شامی پناہ گزین کے ساتھ ، جس کی ایک تصویر نے اس کی زندگی ہی بدل دی۔ بے گھر ہونے کا درد، چہرے پر بے بسی اور احساس ذمہ داری۔ یہ تصویر ہے لبنان کے دارالحکومت بیروت کی سڑکوں پر قلم بیچتے شامی پناہ گزین عبدل کی۔ عبدل اور اس کی بیٹی ریم شام میں خانہ جنگی کے باعث بیروت میں پناہ گزین ہیں، عبدل سڑکوں پر قلم بیچ کر اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے۔ ناروے کے ایک سماجی کارکن سائمن آرسن Simonarson نے عبدل کا یہ انداز کیمرے کی آنکھ میں قید کرکے تصویر ٹوئٹر پر اپ لوڈ کر دی ۔ انسانیت کا درد رکھنے والوں نے فوری طور پر سائمن کی اس کوشش کا بھرپور جواب دیا اور صرف آدھے گھنٹے میں اُسے عبدل کے لیے 5 ہزار ڈالرز کے عطیات موصول ہوئے ۔24 گھنٹے میں یہ رقم 80 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی۔ سائمن نے دو دن کی کوشش کے بعد عبدل کو ڈھونڈ ہی لیا اور رقم اس کے حوالے کردی ۔ عبدل اپنی قسمت بدلنے پر انتہائی خوش ہے اور اب اس رقم سے دیگر پناہ گزینوں کی مدد کرنا چاہتا ہے۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…