جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

ایسی دلچسپ باتیں جو بیوی اپنے شوہر سے چھپاتی ہے

datetime 26  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)بعض اوقات خواتین کے نزدیک ایسی عام بات بھی اہم بن جاتی ہے جو ان کے شوہروں کی نظر میں خاص نہ ہوا اور جب یہ معاملہ سسرال کا ہوتو یہ اور بھی گھمبیر ہوجاتا ہے اس لیے خواتین کچھ ایسی باتیں ہمیشہ اپنے شوہروں سے چھپا کر رکھتی ہیں جنہیں وہ بہت اہم سمجھتی ہیں۔
سسرال کے کچھ رشتہ داروں یا شوہر کے کچھ دوستوں کو ناپسند کرنا:عام طور پر سسرال میں خواتین کو کچھ افراد کی عادات انہیں اچھی نہیں لگتیں یاپھر شوہرکے کچھ دوست بیوی کو اچھے نہیں لگتے تاہم بیوی اس بات کو کبھی بھی اپنے شوہر سے شیئر نہیں کرتی بلکہ اپنی دوستوں سے اسے کا تذکرہ کرتی رہتی ہے۔
سابق دوستوں سے تعلقات چھپانا: اکثر خواتین اپنے تعلیمی دور کے تعلقات یا پھر سابق دوستوں سے شادی کے بعد بھی تعلق کو اپنے شوہر سے چھپاتی ہیں تاکہ کہیں ا?پس میں جھگڑا نہ ہو۔
شوہر کے پیغامات چیک کرنا: شوہرکی ای میلز، چیٹ اورمیسجز چیک کرنا کسی بھی بیوی کا بنیادی حق ہے اوروہ ان کے اسکریننگ کے بغیر رہ نہیں سکتی لیکن عام طور پر وہ اپنی اس حرکت کو اپنے شوہر سے چھپاتی ہیں۔
بینک اکاو¿نٹ پویشیدہ رکھنا: خواتین کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ کچھ رقم برے دنوں کے لیے بچا کر رکھتی ہے اسی لیے وہ اپنا بینک اکاو¿نٹ بھی سیکرٹ رکھتی ہیں تاہم خواتین کے اکاو¿نٹ چھپا کر رکھنے کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں مثلاً مستقبل کے لیے، بچوں کی اعلیٰ تعلیم، بہتر زندگی یا پھر یہ شادی ناکام ہونے کے خوف سے بھی ہوسکتے ہیں۔
صحت کے مسائل: خواتین عام طور اپنی بیماری سے شوہر کو لاعلم رکھتی ہیں جب تک وہ انتہائی حد تک نہ پنہچ جائے۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ خواتین بیماری کو شوہر سے خ?فیہ اس لیے رکھتی ہیں تاکہ وہ ذہنی طور پر پریشان نہ ہوں۔
خراب عادات: جنک فوڈ کا استعمال، بے انتہا فلمیں دیکھنا، سگریٹ پینا یا اپنے دوستوں سے دیر تک گفتگو کرنا ، یہ وہ عادات ہیں جنہیں خواتین اپنے شوہروں سے چھپا کر رکھتی ہیں۔
تعلقات کی خرابی کو چھپانا: عام طور پر میاں بیوی میں تعلقات کیسے بھی ہوں لیکن جب وہ باہر کسی سے ملیں تو یہی کہتے ہیں کہ وہ ان کے درمیان سب کچھ اچھا چل رہا ہے۔ عام طور پر خواتین شوہر سے خراب تعلقات کو چھپاتی ہیں اور سب اچھا ہے ظاہر کرتی ہیں۔
کامیابیوں کو چھپانا: خواتین اپنی سابق کامیابیوں یا پیشہ وارانہ کامیابیوں کو اپنے شوہرسے اس خوف سے چھپاتی ہیں کہ کہیں اس سے دونوں کے تعلقات میں خرانی پیدا نہ ہوجائے۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…