جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

چینیوں نے بھی سابق بھارتی وزیراعظم کے نقش قدم پر چل کر اپنا پیشاب پینا شروع کردیا

datetime 15  اگست‬‮  2015 |

بیجنگ (نیوز ڈیسک)چینی بھی سابق بھارتی وزیراعظم مرار جی ڈیسائی کے نقش قدم پر چل پڑے۔روزانہ ایک گلاس اپنا ہی پیشاب پینے والے چینیوں پر مشتمل کلب قائم کرلیا۔کلب کے صدر اور ارکان کا دعو ی ٰہے کہ روزانہ ایک گلاس اپنا پیشاب پینے سے رسولیوں غائب ، ٹوٹی ہڈیاںجڑ جاتی ہیں جبکہ گنجے پن کے علاج کے لئے تو اس کو اکسیر بتایا جارہاہے۔ارکان کاکہنا ہے کہ پیشاب پینے سے عمر لمبی ہوتی ہے اور کینسر تک کا علاج اس سے ممکن ہے چائنا یورین ایسوسی ایشن کے نام سے قائم تنظیم کی ملک بھر میں شاخیں قائم ہیں 2008 ءمیں قائم ہونے والی اس تنظیم کے پہلے چارسو ارکان تھے جن کی تعداد اب ایک ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔تنظیم کے صدر 80سالہ با یافو کا کہنا ہے کہ اپنا پیشاب پینے کے بعد اس کے نہ صرف گنجے سر پر لہلہاتے ہوئے بال اگ آئے ہیں بلکہ اسے پرانی قبض اور زخموں سے بھی نجات مل گئی ہے۔تنظیم کے ارکان صبح صبح اٹھتے ہی اپنا پہلا پیشاب پیتے ہیں۔تنظیم کا ہیڈ کوارٹر ہانگ کانگ میں ہے جبکہ یہ تنظیم چین کی وزارت صحت سے رجسٹرڈ نہیں ہے۔دوسری طرف ڈاکٹرز اور یورالوجسٹ حضرات کا کہنا ہے انسانی پیشاب میں کوئی شفائیہ یا غذائی اثرات نہیں ہوتے اس میں صرف پانچ فیصد یوریا اور پچانوے فیصد پانی ہوتا ہے۔اپنا پیشاب پینے سے علاج کا طریق کار دنیا بھر میں سب سے پہلے سابق بھارتی وزیراعظم مرارجی ڈیسائی نے اپنایا تھا اور اپنی آپ بیتی میں جب انہوںنے اس کا انکشاف کیاتو انہیں ملک بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…