جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

عبدالکلام سائنسدان ہی نہیں ،سفارتکار بھی تھے، عالمی میڈیا کی دلچسپ رپورٹ

datetime 28  جولائی  2015 |

نئی دہلی(نیوز ڈیسک)بھارت کے سابق صدر عبدالکلام وفات پاگئے ہیں ، اس موقع پر عالمی میڈیا کی طرف سے ان کی شخصیت پر اظہار رائے کا سلسلہ جاری ہے اور ایک میڈیا ادارہ نے ایک واقعہ لکھا ہے جس میں عبدالکلام نے سابق پاکستان صدر پرویز مشرف کو ماموں بنادیا تھا۔وہ لکھتا ہے کہ یہ بات 2005 کی ہے جب جنرل پرویز مشرف ہندوستان آئے تھے اور انھوں نے اس وقت بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے ساتھ ساتھ صدر اے پی جے عبدالکلام سے بھی ملاقات کی تھی۔ملاقات سے ایک دن پہلے عبدالکلام کے سیکریٹری پی کے نائر ان کے پاس بریفنگ کے لیے گئے تھے،پی کے نائر نے انھیں بتایا: سر کل جنرل مشرف آپ سے ملنے آ رہے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا، ہاں مجھے پتہ ہے۔نائر نے کہا: وہ ضرور کشمیر کا مسئلہ اٹھائیں گے۔ آپ کو اس کے لیے تیار رہنا چاہیے،کلام ایک لمحے کے لیے ٹھٹھکے، ان کی طرف دیکھا اور کہا: اس کی فکر نہ کریں۔ میں سب سنبھال لوں گا۔اگلے دن ٹھیک سات بج کر 30 منٹ پر پرویز مشرف اپنے قافلے کے ساتھ ایوانِ صدر پہنچے۔ انھیں پہلی منزل پر ڈرائنگ روم میں لے جایا گیا۔عبدالکلام نے ان کا استقبال کیا۔ ان کی کرسی تک گئے اور ان کے پاس بیٹھے۔ ملاقات کا وقت 30 منٹ طے تھا۔عبدالکلام نے گفتگو شروع کی اور کہا کہ صدر صاحب، بھارت کی طرح آپ کے ملک میں بھی بہت سے دیہی علاقے ہوں گے۔ آپ کو نہیں لگتا کہ ہمیں ان کی ترقی کے لیے جو کچھ ممکن ہو کرنا چاہیے؟جنرل مشرف جی ہاں کے علاوہ اور کیا کہہ سکتے تھے!عبدالکلام نے کہنا شروع کیاکہ میں آپ کو مختصرا پورا کے بارے میں بتاں گا۔ پورا کا مطلب ہے پرووائڈنگ اربن فیسی لیٹیز ٹو رورل ایریاز۔پس پشت آویزاں پلازما سکرین پر حرکت ہوئی اور کلام نے اگلے 26 منٹ تک مشرف کو لیکچر دیا کہ پورا کا کیا مطلب ہے اور اگلے 20 سالوں میں دونوں ممالک اسے کس طرح حاصل کر سکتے ہیں۔30منٹ بعد مشرف نے شکریہ صدر صاحب اور یہ کہہ کر چلتے بنے کہ بھارت خوش قسمت ہے کہ اس کے پاس آپ جیسا ایک سائنس دان صدر ہے۔مصافحہ کیا گیااور نائر نے اپنی ڈائری میں لکھاکہ عبدالکلام نے آج ثابت کر دیا کہ سائنس دان بھی سفارت کار ہو سکتے ہیں



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…