جمعہ‬‮ ، 13 فروری‬‮ 2026 

عبدالکلام سائنسدان ہی نہیں ،سفارتکار بھی تھے، عالمی میڈیا کی دلچسپ رپورٹ

datetime 28  جولائی  2015 |

نئی دہلی(نیوز ڈیسک)بھارت کے سابق صدر عبدالکلام وفات پاگئے ہیں ، اس موقع پر عالمی میڈیا کی طرف سے ان کی شخصیت پر اظہار رائے کا سلسلہ جاری ہے اور ایک میڈیا ادارہ نے ایک واقعہ لکھا ہے جس میں عبدالکلام نے سابق پاکستان صدر پرویز مشرف کو ماموں بنادیا تھا۔وہ لکھتا ہے کہ یہ بات 2005 کی ہے جب جنرل پرویز مشرف ہندوستان آئے تھے اور انھوں نے اس وقت بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے ساتھ ساتھ صدر اے پی جے عبدالکلام سے بھی ملاقات کی تھی۔ملاقات سے ایک دن پہلے عبدالکلام کے سیکریٹری پی کے نائر ان کے پاس بریفنگ کے لیے گئے تھے،پی کے نائر نے انھیں بتایا: سر کل جنرل مشرف آپ سے ملنے آ رہے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا، ہاں مجھے پتہ ہے۔نائر نے کہا: وہ ضرور کشمیر کا مسئلہ اٹھائیں گے۔ آپ کو اس کے لیے تیار رہنا چاہیے،کلام ایک لمحے کے لیے ٹھٹھکے، ان کی طرف دیکھا اور کہا: اس کی فکر نہ کریں۔ میں سب سنبھال لوں گا۔اگلے دن ٹھیک سات بج کر 30 منٹ پر پرویز مشرف اپنے قافلے کے ساتھ ایوانِ صدر پہنچے۔ انھیں پہلی منزل پر ڈرائنگ روم میں لے جایا گیا۔عبدالکلام نے ان کا استقبال کیا۔ ان کی کرسی تک گئے اور ان کے پاس بیٹھے۔ ملاقات کا وقت 30 منٹ طے تھا۔عبدالکلام نے گفتگو شروع کی اور کہا کہ صدر صاحب، بھارت کی طرح آپ کے ملک میں بھی بہت سے دیہی علاقے ہوں گے۔ آپ کو نہیں لگتا کہ ہمیں ان کی ترقی کے لیے جو کچھ ممکن ہو کرنا چاہیے؟جنرل مشرف جی ہاں کے علاوہ اور کیا کہہ سکتے تھے!عبدالکلام نے کہنا شروع کیاکہ میں آپ کو مختصرا پورا کے بارے میں بتاں گا۔ پورا کا مطلب ہے پرووائڈنگ اربن فیسی لیٹیز ٹو رورل ایریاز۔پس پشت آویزاں پلازما سکرین پر حرکت ہوئی اور کلام نے اگلے 26 منٹ تک مشرف کو لیکچر دیا کہ پورا کا کیا مطلب ہے اور اگلے 20 سالوں میں دونوں ممالک اسے کس طرح حاصل کر سکتے ہیں۔30منٹ بعد مشرف نے شکریہ صدر صاحب اور یہ کہہ کر چلتے بنے کہ بھارت خوش قسمت ہے کہ اس کے پاس آپ جیسا ایک سائنس دان صدر ہے۔مصافحہ کیا گیااور نائر نے اپنی ڈائری میں لکھاکہ عبدالکلام نے آج ثابت کر دیا کہ سائنس دان بھی سفارت کار ہو سکتے ہیں



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…