اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

بیٹی کے پیداہونے پر111 پودے لگانا ایک روایت

datetime 14  اپریل‬‮  2015 |

 

نئی دہلی (نیوزڈیسک ) بھارت میں اس کے باشندوں کی اکثریت بیٹیوں پربیٹوں کوترجیح دیتی ہے ۔وہاں سالانہ لاکھوں لڑکیاں رحم مادرمیں زندگی سے محروم کردی جاتی ہیں اسی لئے حکومت نے بچے کی جنس کاپیشکی تعین کرنے کے عمل کوغیرقانونی قراردے کراس پرپابندی لگارکھی ہے تاہم ےہ پابندی موثرثابت نہ ہوسکی اورلڑکیوں کاقتل عام اسی طرح جاری ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بھارت میں لڑکوں کی تعدادلڑکیوں کی تعدادسے بڑھ گئی ہے ۔بھارتی باشندوں کی بڑی تعدادایسی ہے جوبیٹیوں کوقتل نہیں کرتے مگران کی پیدائش کوناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔لڑکیوں کی قبل ازپیدائش ےابعد ازپیدائش ہلاکتوں کی وجہ سے اقوام متحدہ نے بھارت کوبچیوں کے لئے خطرناک ملک قراردے رکھاہے ۔بیٹیوں کوزندہ درگورکردینے والے بھارت میں ایک گاﺅں ایسابھی ہے جہاں ان کی پیدائش پرخوشیاں منائی جاتی ہیں۔پپلانتری نامی ےہ گاﺅں ریاست راجھستان کے ضلع سمند میں واقع ہے جب کسی گھرمیں بیٹی پیداہوتی ہے تواس کے والدین اوراہل خانہ خوشی سے پھولے نہیں سماتے ۔بیٹی کی پیدائش پروہ مٹھائی تقسیم کرتے ہیں اورپھرسب کے سب ہاتھوں میں چھوٹے چھوٹے پودے اٹھائے جنگل کی طرف چل دیتے ہیں کیوں کہ وہاں بیٹی پیداہونے پر111درخت لگانے کی روایت بھی پائی جاتی ہے ۔8000نفوس پرمشتمل گاﺅں میں سال میں اوسطا 60لڑکیاں پیداہوتی ہیں ۔ےوں گاﺅں کے باسی سالانہ ساڑھے چھ ہزارسے زیادہ پودے لگاتے ہیں ایک اندازے کے مطابق اس روایت کی ابتداءکے بعد سے اب تک ےہاں ڈھائی لاکھ سے زیادہ درخت لگائے جاچکے ہیں ان میں نیم ،آم اورپیپل کے درخت شامل ہیں پودے لگا نے کی روایت گاﺅن کے سابق سرپنچ شیام سندرنے گئی برس پہلے اپنی بیٹی کی موت کے بعد شروع کی تھی ۔گاﺅں میں چند ایک ایسے گھرانے بھی ہیں جوبیٹی کی پیدائش پرفکرمندہوجاتے ہیں ان گھرانوں کی نشاندہی اورمالی امدادکے لئے گاﺅں کے سرکردہ افرادپرایک کمیٹی موجودہے ۔کمیٹی گاﺅں کے باسیوں سے اکیس ہزارروپے اوربچی کے باپ سے دس ہزارروپے لے کراس رقم کوسرکاری سکیم میں لگادیتی ہے بیس سال کے بعد ےہ رقم کئی گناہوکرلڑکی کے باپ کوملتی ہے اوروہ اپنی بیٹی کے جہیزاوردیگراخراجات سے بے فکرہوجاتاہے اس کے علاوہ بچی کے والدین سے ایک حلف نامے پربھی دستخط کروائے جاتے ہیں جس کے تحت وہ اس بات کے پابندہوتے ہیں کہ قانونی عمرتک پہنچنے سے بچی کی شادی نہیں کریں گے ،

مزید پڑھئےعلم کی دولت سے مالا مال جنگی ٹینک تیار

اسے باقاعدگی سے سکول بھیجیں گے اوراس کے نام پرلگائے گئے درختوں کی دیکھ بھال کریں گے ۔لڑکیوں کی پیدائش پرلگائے گئے درختوں کے لئے گاﺅں کے باسیوں نے وسیع قطعہ اراضی مختص کررکھاہے جوجنگل کی شکل اختیارکرگیاہے ۔ےادگاری درختوں کوکیڑے مکوڑوں اوردیمک سے بچانے کے لئے ان کے اطرف ڈھائی لاکھ سے زائد گوارپاٹھا(ایلوویرا)کے پودے لگائے گئے ہیں ۔یہ درخت اورگوارپاٹھا کے پودے گاﺅں کی باشندوں کی آمدنی کااہم ذریعہ بھی بن گئے ہیں ۔خواتین گھروں پرہی ایلوویراکے پودوں سے مختلف مثلا جل ،اچاروغیرہ تیارکرتی ہیں جنہیں مردفروخت کرنے کےلئے شہرلے جاتے ہیں
۔پپلانتری اس لحاظ سے بھی منفردگاﺅں ہے کہ اس کی ویب سائٹ اورترانہ موجود ہے ۔اس گاﺅں میں جانوروں کے جنگل میں چرنے اوردرخت کاٹنے پرپابندی عائد ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…