لندن(نیوزڈیسک) برطانوی ڈیزائنر نے فرنیچر تیار کرنے کا ایک اہم ماحول دوست طریقہ ایجاد کیا ہے جس کے تحت ”بید“ کی شاخیں ایک خصوصی سانچے میں ڈھل کر آپ کے لیے خوبصورت فرنیچر تیار کریں گی۔برطانوی ڈیزائنر نے اس دلچسپ کام کے لیے خصوصی پلاسٹک سانچے (مولڈز) تیار کیے ہیں جن پر ”بید“ کی شاخیں ایک خاص انداز میں بڑھتے ہوئے جال کی طرح کسی بھی شے مثلاً کرسی یا میز کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔ برطانوی ماہر نے اس طریقے سے 400 سے زائد میز، کرسیاں اور لیمپ شیڈز تیار کیے ہیں۔ اس دلچسپ طریقے میں درخت کی شاخوں کو کچھ اس طرح ا±گایا جاتا ہے کہ وہ ایک ٹھوس شکل اختیار کرلیتی ہے اور پھر اسے مزید پالش کرکے ایک باقاعدہ شکل میں ڈھالا جاتا ہے۔بیڈ کی شاخیں شروع میں لچکدار اور نمی سے بھرپور ہوتی ہیں اور ایک مرتبہ مطلوبہ شکل اختیار کرنے کے بعد انہیں سکھاکر سخت کیا جاتا ہے اس کی تیاری میں خاص قسم کی بید کا درخت استعمال کیا جاتا ہے جو بہت تیزی سے ا±گتا ہے تاہم اس ماہر نے دوسرے درختوں پر بھی یہ طریقہ آزمایا ہے۔برطانوی ڈیزائنر کے اس طریقے کار کے مطابق روایتی فرنیچر کے مقابلے میں اس میں کیلوں اور دیگر سامان کی ضرورت نہیں ہوتی اور اس کے باوجود ایک مضبوط فرنیچر تیار ہوتا ہے۔ انوکھے طریقے سے تیار ہونے والے اس فرنیچر میں ایک کرسی کی قیمت ڈھائی ہزار برطانوی پاو¿نڈ یا اور 3 لاکھ 75 ہزار روپے پاکستانی روپے ہے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
تنخواہوں کے حوالے سے سرکاری ملازمین کیلئے ایک اور خوشخبری
-
پاکستان کا المیہ
-
ایرانی ریال کے نئے نرخ سامنے آ گئے
-
وزیراعظم شہباز شریف کے آموں کے تحفے پر ہنگری کے وزیراعظم کا دلچسپ پیغام
-
امارات کے نائب صدر 77 ویں سالگرہ منانے اسکاٹ لینڈ میں اپنی دلکش اراضی میں پہنچ گئے
-
امریکی ویزا کے خواہشمند پاکستانیوں کے لئے بڑا اعلان
-
علی خامنہ ای کے جنازے پر اسرار نقاب پوش کون تھا؟ شناخت ظاہر
-
بھارت و افغانستان کا ڈی این اے ایک جیسا ہے، افغان وزیر کو کہنا مہنگا پڑ گیا
-
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
-
اداکارہ مومنہ اقبال ہراسانی کیس، ثاقب چدھڑ بارے عدالت کا اہم فیصلہ آگیا
-
عمران خان اور جمائمہ کا تاریخی لندن والا گھر فروخت کے لیے پیش، قیمت جان کر حیران رہ جائیں گے
-
پاکستانیوں کے لیے خوشخبری! سعودی عرب نے نیا پیکیج ویزا متعارف کرا دیا
-
تولدے گیبریماریم کو پی آئی اے کی قیادت سونپنے کا فیصلہ
-
وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا امکان، نئے نام زیر غور



















































